جو شخص روزانہ اپنی دعاؤں میں اس دعا کو شامل کرلیتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو امتحان کی اور آخرت کو جزاء و سزا کی جگہ بنایا ہے ۔ یہاں آزمائش کے لئے خوشیاں بھی عطاء کی ہیںکہ کون ان کو میری نعمت اور احسان سمجھ کر شکر ادا کرتا ہے اور غم بھی پیدا فرمائے ہیںکہ کون ان کو اپنی غلطی سمجھ کر میری طرف رجوع کرتا ہے؟ انسان کو دنیا میں یہ دونوں چیزیں نصیب ہوتی ہیں

لیکن افسوس صد افسوس کہ صرف اس کو غم ہی یاد رہتے ہیں ۔پریشانی کے آزمائشی لمحات میں اپنے رب سے گلے شکوے، شکایتیں اور ناشکری ہی کرتا ہے ۔اُس ذات کی طرف سے ملنے والی خوشیوں اور نعمتوں کو سرے سے بھلا دیتا ہے بلکہ ان کو اللہ کا محض فضل ، احسان اور کرم سمجھنے کے بجائے اپنا ’’کمال ‘‘سمجھتا ہے۔ اے کاش! ہمیں اپنی اِن دونوں غلطیوں کا احساس ہو سکے، خوشیوں کو اس کی عطاء سمجھیں اور شکر ادا کریں ، مصائب اور پریشانیوں کو بھی اللہ کا انعام سمجھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جس مسلمان کو دنیاوی آزمائشوں میں مبتلا کرتے ہیں تو اس کی دعا ؤں کو اپنی بارگاہ میں قبولیت سے نوازتے ہیں، یہ اس ذات کا کرم ،بے پناہ کرم اور محض کرم ہی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ہم اللہ کی مخلوق ،اس پر ایمان لانے اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں۔ وہ ذات ہم سے پیار کرتی ہے ،دنیا میں خوشیاں عطاء کر کے آخرت کی حقیقی خوشیوں کا احساس دلاتی ہے کہ دیکھو دنیا کی خوشیاں عارضی

ہیں، ان کے ختم ہونے کا دھڑکا سا لگا رہتا ہے، چھن جانے کا خوف دامن گیر رہتا ہے جبکہ آخرت کی خوشیاں مستقل ہیں، ان کے ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کوئی چھین نہیں سکتا ۔ اسی طرح وہ ذات دنیاوی پریشانیاں دیکر آخرت کی حقیقی پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کا موقع دیتی ہے کہ دیکھو تم دنیا کی پریشانیوں کو جو وقتی اور عارضی ہیں ان کو برداشت نہیں کرسکتے تو آخرت کی لمبی پریشانیاں کیسے برداشت کر سکو گے؟اللہ تعالیٰ ہمیں جھنجوڑنے اور غفلت سے دور کرنے کیلئے تنبیہ کے طور پر چند پریشانیوں سے دوچار کرتے ہیں تاکہ یہ بندے آخرت کی بڑی اور لمبی پریشانیوں سے بچنے کی وہ تدابیر اختیار کر سکیں جو میرے احکامات اور میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں موجود ہیں بلکہ قرآن و سنت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عین اس وقت بھی جب کسی مسلمان پر مصائب و مشکلات نازل ہو رہے ہوتے ہیں، اس وقت بھی وہ اللہ کے کرم کے سایہ میں ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی گناہ کی وجہ سے اس پر نازل ہو رہی ہیں تو

سنبھلنے کا موقع مل رہا ہوتا ہے بلکہ اس شخص کو اس وقت اللہ تعالیٰ ایک بہت بڑی نعمت عطاء فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کی دعا ء کو قبول فرماتے ہیں۔ذیل میں ہم چند ایسے اشخاص کا تذکرہ کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی پریشانی سے دوچار کر کے ان کی دعاؤں کو قبولیت کا شرف عطاء فرماتے ہیں۔انسان کی زندگی میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ وہ بالکل بے بس ہوجاتا ہے ۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب اللہ کریم اس کی دعاء کو قبول فرماتے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ انسان کو نوازنا چاہتا ہے عین اسی وقت یہ اس ذات کے گلے شکوے شروع کر دیتا ہے اس لئے بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ ایسے وقت کو اللہ تعالیٰ کی ناشکری میں ضائع کرنے کے بجائے دعا ئیں مانگنے میں خرچ کیا جائے ۔ قرآن کریم میں ہے :بھلا اللہ کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے ؟جو بے کس و بے بس انسان کی دعاء کو قبول اور اس سے حالات کی سختی کو دور فرماتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *