بیوی خاوند کی یہ 1 بات نہ مانے تو اس پر فرشتے لعنت کرتے ہیں ۔

حدیث پاک میں ہے کہ جو عورت فرائض پر عمل کرتی ہو اور اس حال میں مرے کہ خاوند اس سے راضی ہو اللہ تعالیٰ جنت کے دروازوں کو کھول دیتے ہیں مرد کا سلوک ہوتا ہے عبادت کے ذریعے سے اور عورت کا سلوک طے ہوتا ہے خدمت کے ذریعے سے جو اپنے گھر میں خدمت کرے گی اللہ تعالیٰ اس کو روحانیت کی بلندیاں

عطافرما دیں گے اسی لئے عورت کا جنت میں جانا بہت آسان ہے خاوند کو راضی کرنا تو شاید دنیا کا سب سے آسان کام ہے راضی کرلے اللہ تعالیٰ جنت کے دروازے کھول دیں گے چند باتیں جس کی شریعت نے بیوی کو ترغیب دی فرمایا کہ ایسے بن کے رہے خاوند جب دیکھے تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اس کا دل خوش ہوجائے بیوی کو دیکھ کر اس کا مطلب یہ کہ صاف ستھری بھی رہے اور فرمانبرداری کی صفت بھی ہو اس لئے کہ جب نافرمانی ہو تو چاہے جتنا مرضی کوئی خوبصورت بن کے آئے طبیعت وحشت کھاتی ہے تو فرمایا کہ تم ایسا بن کر رہو کہ تمہیں دیکھ کر خاوند کا دل خوش ہوجائے اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرے اور قول اور فعل میں اس کے ساتھ تلطف اور نرمی کا معاملہ کرے نرمی شریعت کو کتنی پسند ہے ذرا غور کیجئے کہ قرآن مجید کا جو بالکل سینٹرل لفظ ہے وہ ہے ولیتلطف اور اس کا ماخذ لطف ہے ۔جس شریعت نے مرکزی نقطہ بتلایا کہ تم نرمی کا معاملہ کرو اب وہاں انسان اگر نرمی سے محروم ہو تو وہ کتنا بڑ محروم کہلائے گا اور ایک یہ بھی ہے کہ اولاد کی اچھی تربیت کرے اور اس کے مال کی حفاظت کرے اور اس کے سامنے بلند آواز نہ کرے تو عورت کو چاہئے کوئی ایسی بات نہ کرے کہ جس سے اس کے خاوندک ا دل دکھے اور خاوند کے تقاضے کے معاملے میں اس کی فرمانبرداری کرے کہ جب خاوند کو ضرورت محسوس ہو اس کے ساتھ کو آپریٹ کرے ۔حدیث پاک میں ہے کہ جب کسی خاوند نے اپنی بیوی کو اپنی ضرورت کے لئے بلایا اور وہ انکار کردیتی ہے یعنی بہانہ بنا لیتی ہے تھکی ہوئی ہوں نیند آرہی ہے

یہ مسئلہ ہے اور وہ مسئلہ ہے اور اسی طرح اس خاوند نے رات گزاری کہ اس کے دل میں غصہ تھا فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت برساتے رہتے ہیں اس سے اندازہ لگائیے بیوی کو کتنی تعلیم دی کہ تم خاوند کے ساتھ محبت کا معاملہ رکھو حدیث پاک اگر خاوند نے اپنی بیوی کو اپنی ضرورت کے لئے بلایا اگر وہ تنور پر روٹیاں لگارہی ہے تب بھی اس کو چاہئے کہ وہیں کام چھوڑ کر آئے اور اپنی خاوند کی ضرورت کو پورا کرے اسی لئے شریعت نے حکم دیا کہ عورت نفلی روزہ نہیں رکھ سکتی جب تک کہ خاوند اس کو اجازت نہ دے اور ایک بات یہ بھی فرمائی کہ ہر وقت نقطہ چینیاں ہی نہ کرتی رہے کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے عورتوں کو کثرت کے ساتھ جہنم میں دیکھا تو صحابیات نے پوچھا کہ اللہ کے نبی ﷺ کس وجہ سے؟ایک تو یہ کہ عیب زیادہ نکالتی ہیں لعنت زیادہ کرتی ہیں اس میں تو یہ چیز ٹھیک نہیں یہ ٹھیک نہیں منفی سوچ ہوتی ہے اور دوسرا دوسرے کے احسانات کو سرے سے ہی ماننے سے انکار کردیتی ہیں ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصرہو ۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.