انڈہ ابالنے سے پہلے یہ کام کر لیں وٹامن ڈی کی کمی ،تھکاوٹ ، ہڈیوں کا درد سب ختم

وٹامن وہ اہم جزو ہے جس کی کمی لوگوں کو کافی بھاری پڑ سکتی ہے وٹامن ڈی دانتوں ہڈیوں اور مسلز کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے اس کی کمی سے جسم کے لئے کیلشیم یا فاسفورس کی مقدار کو ریگولیٹ کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور اس وجہ سے بہت ساری بیماریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جیسے کہ بال گرنا جوڑوں میں درد

چڑچڑا پن ڈپڑیشن ہر وقت تھکاوٹ اور پٹھوں میں کھنچاؤ وغیرہ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے گھر میں موجود بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جس سے ہم اس کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر افراد اس کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کو یاتو ان چیزوں کی افادیت معلوم نہیں ہوتی یا پھر انہیں استعمال کا ٹھیک طریقہ نہیں آتا۔جن لوگوں کو مچھلی یا جھینگے کھانا پسند نہیں تو انڈے ایسے افراد کے لیے اچھا آپشن ہے جو کہ وٹامن ڈی سے بھرپور ہونے کے ساتھ دیگر غذائی اجزا بھی جسم کو فراہم کرتے ہیں، ویسے تو انڈے کی سفیدی میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے مگر وٹامنز اور منرلز عام طور پر زردی میں ہوتے ہیں۔ ایک انڈے کی زردی سے کچھ مقدار میں وٹامن ڈی جسم کو ملتا ہے خصوصاً دیسی انڈوں میں یہ مقدار فارمی کے مقابلے میں 3 سے 4 گنا زیادہ ہوتی ہے۔سب سے پہلے ہمیں چاہئے ہوگا انڈہ دیسی انڈہ مل جائے تو بہت ہی اچھا رہے گا ورنہ فارمی انڈہ بھی ٹھیک رہے گا انڈے کی زردی میں وٹامن ڈی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور ہم اس مقدار کو بس ایک چھوٹا سا کام کر کے ڈبل کر سکتے ہیں یعنی جتنا وٹامن ڈی اس میں ہوتا ہے وہ دو گنا ہو جائے گا اب آپ نے کرنا یہ ہے کہ انڈے کو دھوپ

میں رکھنا ہے چار سے پانچ گھنٹے تک آپ اسے دھوپ لگوائیں گے دھوپ وٹامن ڈی کا نیچرل سورس ہے اور جب یہ دھوپ انڈے پر لگے گی تو انڈے میں وٹامن ڈی کی مقدار ڈبل ہوجائے گی اب آپ نے اسے ابالنا ہے بس پانی میں معمولی سا نمک ڈال لیجئے گا تا کہ چھلکا آسانی سے اتر سکے جب یہ ابل جائے تو آپ نے اسے کھا لینا ہے اور اسے کھانے کے بعد ایک گلاس تازہ دودھ پی لینا ہے بس آپ نے یہی عمل روزانہ کرنا ہے چاہے بچہ ہو یا بڑا بوڑھا ہو یا جوان سبھی اسے استعمال کرسکتے ہیں اس کے استعمال سے وٹامن ڈی کی کمی بہت تیزی سے پوری ہوتی ہے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور جسم میں بھر پور توانائی بھی آتی ہے اس نسخے میں کوئی راکٹ سائنس تو نہیں ہے آسان سا نسخہ ہے آپ اسے ایک بار ضرور ٹرائی کیجئے۔انسانوں کی طرح مشروم بھی سورج کی روشنی میں وٹامن ڈی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم عام طور پر مشروم تاریکی میں بڑھتے ہیں تو ان کی مخصوص اقسام میں ہی وٹامن ڈی کی مقدار پائی جاتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *