آج ہی عہد کر و کہ یہ وظیفہ کر لو گے

آج ہی عہد کر و کہ یہ وظیفہ کر لو گے صبح اٹھتے ہی یہ وظیفہ کر و اور رات کو بستر کےنیچے سے دولت اٹھا لینا حیرت میں مبتلا کر دینے والا وظیفہ ۔ اللہ کی تعریف: انجیر کی گو لا ئی ، کر یلے کی کڑوائی اور گلاب کی خوشنما ئی ایک ہی زمین سے میرے رب نے کیا کیا رنگ دکھا دئیے۔ آج میں آپ لوگوں کی خدمت

میں حیرت انگیز وظیفہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔ آج کل انسان کے اندر پیسوں کی حوس اس قدر بڑ ھ گئی ہے کہ اسے پیسوں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔۔زیادہ مال و دولت کما نے والا، بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے والا اور بڑی بڑی گاڑیاں رکھنے والوں کو ہی عزت کا حقدار سمجھا جا تا ہے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ زندگی بند مٹھی میں ریت کی مانند ہے اور مٹھی سے ریت آ ہستہ آہستہ پھسلتی جا رہی ہے اور ایک دن یہ مٹھی خالی ہو جائے گی۔ اللہ پاک نے قرآن میں واضح ارشاد فر ما یا ہے کہ میں نے انسان و جن کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فر ما یا ہے پھر یہ شیطان ہمیں کہاں لے کر جا رہا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے نزدیک کا میابی کا معیار دنیاوی عیش و عشرت ہے جس کے پاس پیسہ ہے اسے ہی کا میاب سمجھا جاتا ہے۔ اللہ سے دُعا ہے کہ اللہ ہمیں خوابِ غفلت سے جگا دے او ر دولت جمع کر نے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی دنیا و آخرت بھی بہتر کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے۔ عمل اور ضروری ہدایات: یہ وظیفہ آپ نے نمازِ فجر کے بعد کر نا ہے اور اللہ کے اسم اعظم ” یا اللہ یا غفور ، یا اللہ شکور ” کو سو مرتبہ پڑ ھنا ہے۔ پانچ مرتبہ دُرودِ پاک پڑ ھنا ہے اور آخر میں اللہ پاک

سے دُعا مانگنی ہے ۔ اس عمل کو روزانہ ایک بار کر نا ہے۔ ان شاء اللہ آپ کے رزق اور مال و دولت کی تمام پریشانیاں اللہ کے فضل و کرم سے دور ہو جائیں گی۔ رات کو آپ کو بستر کے نیچے سے دولت کی دھتیاں ملیں گی۔ آپ کے پاس اتنی دولت آ جائے گی کہ آپ خوشی کے مارے جھوم اُٹھو گے۔ وظیفہ کرنے سے پہلے پہلے کچھ نہ کچھ صدقہ و خیرات کر لیا کر یں۔ کبھی فرصت ملے تو پیارے نبی ﷺ کی زندگی کا مطا لعہ کر کے تو دیکھیں آپ کی آ نکھیں کھل جائیں گی کہ کیسے کئی کئی دن آپ کے گھر چو لہا نہیں جلتا تھا مگر قربا ن جا ؤں آپ کی شانِ اقدس پر کہ آپ نے تمام مصائب اتنے صبر سے برداشت کر کے ہمارے لیے ایک مثال پیدا فر مائی اگر ہم اس بات کو ہی اپنی عقل میں لے آ ئیں تو ہمارے کافی سارے مسائل منٹوں میں حل ہو سکتے ہیں مگر ہم تو اپنی زبان پر ہزار ہزار شکوے لیے پھرتے ہیں خدا سے شکوے کر تے ہیں اپنے نصیب پر ماتم کرتے ہیں جب کہ حضرت علی کا فر مان ہے کہ خوش نصیب انسان وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے۔اگر ہم اپنے نصیب پر خوش ہو نا سیکھ جاتے ہیں تو آپ راضی ہو جائیں گے تو باقی معاملات بھی آہستہ آہستہ ٹھیک ہو تے جائیں گے بس تھوڑی برداشت تھوڑا صبر کرنے کی ضرورت ہے ہمیں دوسروں کی ریس نہیں کرنی چاہیے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.