مانگ جو تجھے چاہئے

یہ بہت ہی مجرب عمل ہے جو بھی اس عمل کر کو کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے حامی و ناصر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اس کی ہر حاجت کو قبول فرمائیں گے ہر دعا کو قبول فرمائیں گے کیونکہ اس کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ نبی ﷺ نے اس عمل کے حوالے سے فرمایا ہے کہ جو بھی اس عمل کو کرے گا تو وہ عمل اس کے لئے کافی ہو جائے

گا اور انشاء اللہ اس کو احادیث مبارکہ میں اس کے اوپر وارد ہوئی ہیں لہٰذا پورے غوروفکر سے اس عمل کو نوٹ کیجئے اور اس وظیفہ پر عمل کیجئے۔ فکر و تدبر کے ساتھ عمل کرنے سے اللہ انسان کے فکر و تدبر کے مطابق انسان کو عطا فرماتا ہے ۔آج کا یہ عمل نماز چاشت کے حوالے سے ہے یہ ایک نفلی نماز ہے ویسےتو انسان جب فرائض کو ادا کرتا ہے تو اس کے فرائض مکمل ہو جاتے ہیں پانچ وقت کی نماز تو ایسے ہے جیسے کہ انسان آن ڈیوٹی ہے لیکن نفلی نمازوں کی مثال اوور ٹائم کی سی ہے۔تو جیسا کہ اوور ٹائم سے انسان کو بونس دیا جاتا ہے اسی طرح سے انسان کی قسمت میں بھی نفلی نمازوں کے بدلے بونس عطا کیا جاتا ہے تو چاشت کی نماز میں کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں ہیں اس کو صبح کے وقت ادا کیا جاتا ہے۔ جبکہ آفتاب بلند ہوجائے یعنی تقریبا ساڑھے آٹھ نو بجے کےقریب ادا کیا جاتا ہے اور زوال سے پہلے پہلے تک اس کا وقت ہے ۔یعنی نصف النہار اس کا شرعی وقت ہے اور اس نفلی نماز پڑھنے کی فضیلت بہت زیادہ ہے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں اس کے لئے اللہ پاک جنت میں سونے کا محل بنا دے گا اور جو چاشت کی نماز ہمیشہ پڑھے اس کے

تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔حضرت ابو ذر رضی اللہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : دن کا آغاز ہوتے ہی تم میں سے ہر ایک کی ہڈیوں پر صدقہ لازم ہوتا ہے لہٰذا ہر تسبیح صدقہ ہے ہر تمحید صدقہ ہے ہر تحریم صدقہ ہے بھلائی کی ترغیب اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے اور ان سب کی برابری اور کفایت چاشت کی دو رکعتیں کر لیتی ہیں۔ حضرت بریدہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ :انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور ان کے لئے لازم ہے کہ ہر جوڑ کے بدلے صدقہ کرے صحابہ کرام رضی اللہ نے عرض کیا کہ اے نبیﷺ یہ استطاعت کس میں ہے کہ ہر جوڑ کے بدلے صدقہ ادا کرے، آپ ﷺنے ارشاد فرمایا مسجد میں پڑے تھوک کو دفن کرنا راستہ سے چیز سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو چاشت کی دو رکعتیں بھی تیرے لئے کافی ہوجائیں گی۔اور حدیث کا مفہوم ہے کہ جنت کے ایک دروازے کا نام ضحیٰ ہے قیامت کے ندا دی جائے گی کہ

وہ لوگ کہاں ہیں کہ جو اپنے دن کا آغاز چاشت سے کرتے تھے۔ آجاؤ اور اس دروازے سے جنت میں داخل ہو جاؤ ایک اور حدیث ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : “مجھے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی کہ میں انہیں مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا: ہر ماہ تین دن کے روزے، اشراق کی نماز، اور وتر پڑھ کر سونا”اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمازِ اشراق کی صرف اوّاب[رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا] ہی پابندی کرتا ہے، اور یہی صلاۃ الاوّابین ہے۔اسی لئے اپنے گناہوں کی توبہ کرتے رہئے اور چاشت کی نماز اداکیجئے اور اس طرح ادا کیجئے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص سات سات مرتبہ تلاوت کیجئے ۔ اور روزانہ اللہ سے گڑا گڑا کر عاجزی و انکساری سے محتاجی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ پاک کی حمد و ثنا کر کے ،آقاﷺ پر درود پاک بھیج کر اللہ سے دعا کیجئے ۔انشاء اللہ رزق کی وسعت ہوگی پریشانیاں دور ہوں گی اولاد نیک ہوگی ،مسائل حل ہوں گے ذہنی و قلبی اطمینان حاصل ہو گا ۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.