اللہ پاک کو یہ لفظ بہت پسند ہے اسکو یاد کرلو

انسان جس وقت اس دنیا میں آتا ہے اسی وقت سے وہ ضرورتوں کو غلام بن جاتا ہے اور اس کی ضرورتوں کو یہ لامتناہی سلسلہ اس کے قبر میں جانے تک ختم نہیں ہوتا حتیٰ کہ مرنے کے بعد بھی دوسروں کا محتاج ہوتا ہے اس کی محتاجی اور

ضرورت مندی کبھی ختم نہیں ہوتی ہے انسان کو زندگی میں قدم قدم پر مختلف ضرورتوں کی طلب اور چاہت ہوتی ہے اور ان ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے ان تھک محنت کیساتھ ایک ہتھیار بھی استعمال کرتا ہے اور وہ ہتھیار ہے دعا ۔زندگی میں اسے بے شمار ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں کوئی انسان اس کی ذرا بھی مدد نہیں کرسکتا دنیا کے سارے وسائل وذرائع جواب دے جاتے ہیں اپنے بیگانے اور ایسے لوگ بھی ساتھ چھوڑ جاتے جو ہمیشہ ہر حال میں نصرت وامداد کا اور ضرورت پڑنے جان تک نچھاور کرنے دم بھرتے رہتے ہیں ایسے میں انسان کو مصیبتوں کے بھنور سے صرف خالق کائنات ہی نکال سکتے ہیں جب انسان سب سے تھک ہار کر اس رب کائنات کو وحدہو لاشریک مان کر اس کے آگے گر گرا کر دعا مانگتا ہے تو رحمت الٰہی جوش میں آکر اس کی ضرورتوں اور ہاجتوں کو پورا کردیتی ہے دعا دوسرے تما م شرعی اور تقریری اسباب کی طرح مطلوب کے حصول کا سبب ہوتی ہے خواہ دعا کو سبب کا نام دیا جائے یا جزوے سبب کا یا اسے شرط کہا جائے مقصود ایک ہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ جب انسان کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اس کے دل میں ڈال دیتا ہے کہ وہ دعا کا طالب ہو پھر اسی دعا اور طلب نصرت کو اسکی بھلائی کا سبب بنا دیتا ہے جو اسکے حق میں مقدر ہوچکی

ہوتی ہے ۔ جیسا کہ حضرت عمر ؓ میرے ذمہ صرف یہ ہے کہ دعا کروں اس کی قبولیت بھی اسکے ساتھ ہی ہوتی ہے ۔ہمیں روزانہ کی بنیاد پر پوری دنیا سے ہزاروں بہن بھائیوں کے قبولیت کے انوکھے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انہی واقعات میں سے بہت سارے بھائیوں نے (یاذوالجلال والاکرام ) 33بار دعا سے پہلے پڑھ کر پھر اللہ تعالیٰ سے دعامانگنے کے بارے میں لکھا ہے کہ ہم نے جب کبھی اپنی حاجت کیلئے یا ذوالجلال والاکرام پڑھ اللہ کریم سے دعا مانگی اللہ کریم نے اسی وقت ہماری دعا قبول کرلی یا ذوالجلال والاکرام کی بڑی فضیلت ہے ۔آپ ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی آیا جو کہہ رہا تھا کہ یا ذوالجلال والاکرام تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اب اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو تمہاری دعا قبول کی جائیگی رسول اللہ ﷺ نے اس ذکر کے پڑھنے کا کہا اس میں عظیم راز پوشیدہ ہے یا ذوالجال کے معنی ہیں بہت زیا دہ بڑے جلال کامل بزرگی والا رب والاکرام اور اپنے اولیاء کیلئے اکرام وتکریم کا مالک رب کہ آپ نے بلند وبرتر رب کی تعریف بھی کی ہے اور اس سے مانگ بھی رہے ہیں سوچیئے اگر آپ دن میں سینکڑوں دفعہ پڑھتے ہیں تو ضرور اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوگا اور سینکڑوں دفعہ پڑھیں والاکرام وہ آپ کی حاجت جانتا ہے وہ ضرور آپ کی حاجت جانتا ہے وہ ضرور عطا فرمائے گا۔ شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.