اگر میری حکومت آئی تو ڈاکٹر قدیر کو فوری طور پر امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا ۔۔۔ واشنگٹن میں یہ وعدہ کس پاکستانی شخصیت نے کس کے سامنے کیا تھا ؟ سینئرصحافی کا تہلکہ خیز انکشاف

اگر میری حکومت آئی تو ڈاکٹر قدیر کو فوری طور پر امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا ۔۔۔ واشنگٹن میں یہ وعدہ کس پاکستانی شخصیت نے کس کے سامنے کیا تھا ؟ حامد میر کے کالم میں تہلکہ خیز انکشاف میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے متعلق اپنی کتاب میں جو داستان بیان کی ہے وہ اسی احترام سے لکھی ہے جو

اکثر پاکستانیوں کے دل میں ڈاکٹر صاحب کے لئے ہے جس میں آپ بھی صفِ اول میں شامل ہیں. میں ڈاکٹر صاحب کی ڈی بریفنگ کے دوران ہر میٹنگ میں شامل رہا ہوں. مجھے اچانک آخری ملاقات میں شمولیت سے روک دیا گیا کیونکہ میں نے ایک دن پہلے ڈاکٹر صاحب کو احتیاطاً فون پر کہا تھا کہ وہ کوئی ایسا بیان نہ دے دیں جو حقیقت کے خلاف ہو.تب مجھے پتا لگا کہ میری ڈاکٹر صاحب سے فون پر گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی تھی تو فطری طور پر مجھے شکایت بھی تھی. میں اصلی واقعات کو بروقت منظر عام پر لانا چاہتا تھا تاکہ ڈاکٹر صاحب کے بیان کی اصلیت کا عوام کو علم ہو سکے.میری حالیہ کتاب History Of Pakistan Reinterpretedسے پہلے جون 2012میں ایک کتاب ’’سینیٹر ایس ایم ظفر کی کہانی اُن کی اپنی زبانی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی اور اس کتاب میں یہ تمام واقعات تفصیل سے بیان کر دیے تھے اور یہ کتاب جنرل پرویز مشرف کو خود جا کر پیش بھی کر دی تھی لہٰذا میرے ضمیر پر کوئی بوجھ نہ تھا.بعد میں یہی باتیں میں نے سینیٹ میں بھی کر دی تھیں.میں نے کہا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اگر کچھ واقعات کو بوجوہ تسلیم کر لیا ہے تو پاکستان کو محفوظ بنانے کے لئے یہ بیان دیا ہے. ا ب میں کالم کے اس حصے کی طرف آنا چاہتا ہوں کہ سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی

ے 2010میں ایک انٹرویو میں آپ سے کہا تھا کہ جنرل مشرف ڈاکٹر قدیر کو امریکہ کے حوالے کرنا چاہتا تھا اور یہ کہ امریکی ہوائی جہاز انہیں لینے کے لئے آ چکا تھا.ریکارڈ درست کرنے کے لئے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ظفر اللہ جمالی کا بیان حقیقت پر مبنی نہیں ہے یا اُن کو کوئی غلط اطلاع ملی ہو گی یا پھر وہ اپنے استعفے کی اصل وجہ بیان نہیں کرنا چاہتے ہوں گے. جنرل مشرف سے میری جتنی ملاقاتیں ہوئیں اُن میں کئی بار ڈی جی آئی ایس آئی بھی شامل رہے، مجھے کبھی یہ اشارہ نہ ملا کہ وہ ڈاکٹر قدیر کو کسی اور ملک کے حوالے کرنے کو تیار ہیں.ملک کا کوئی بھی سربراہ ایسی بات نہیں کر سکتا تھا. افواجِ پاکستان کی سوچ یہی تھی کہ ڈاکٹر صاحب کو کسی بھی ملک یا ادارے کے حوالے کرنے اور اُن سے تفتیش کی اجازت نہیں دی جا سکتی. جب محترمہ بےنظیر بھٹو نے واشنگٹن میں یہ کہا کہ اگر وہ حکومت میں آئیں تو ڈاکٹر قدیر کو آئی اے ای اے کے حوالے کر دیں گی تو سابق آرمی چیف اور فوجی جرنیلوں کا ردِعمل یہی تھا کہ یہ بیان امریکہ کو خوش کرنے کے لئے دیا گیا.میری سمجھ سے باہر ہےکہ ظفر اللہ جمالی صاحب نے ایسا بیان کیوں دیا.

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *