ہم پنشن نہیں دے سکتے ۔ سٹیٹ بینک نے ہاتھ کھڑے کردیئے

کراچی( نیوزڈیسک)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2021 کی اپنی پہلی سہ ماہی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران عوامی شعبے کے پینشن اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ملک میں بغیر فنڈز کے پینشن ادائیگیاں موجودہ ڈھانچے کو غیر مستحکم بنا رہی ہے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق

مالی سال 2020 کے مطابق ٹیکس ریونیو کے حصے میں مجموعی طور پر پینشن اخراجات 18.7 فیصد پہنچ چکے ہیں جو ایک دہائی پہلے کی سطح سے تقریبا دگنے ہیں۔خاص طور پر مالی سال 2011 سے 2021 کے دوران ملک میں وفاقی سطح پر پینشن کے اخراجات میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبائی پینشن اخراجات میں بھی اسی طرح کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔مستحکم پنشن اخراجات میں، سول پینشن (جس میں وفاقی اور صوبائی بھی شامل ہیں) کی تشکیل 63.2 فیصد ہے جبکہ گزشتہ 5 سالوں میں فوجی پینشن اوسطا 36.8 فیصد ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینشن کا بڑھتا ہوا بوجھ بنیادی طور پر دو عوامل کی وجہ سے ہے، زندگی کی توقع میں اضافہ جس سے پینشن سپورٹ کی مدت میں توسیع اور سرمایہ کاری سے متوقع منافع سے کم (مثال کے طور پر بہت کم شرح سود کی وجہ سے) جو مالی اعانت میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔زیادہ پینشن کی رقم کے نتیجے میں اخراجات کے دیگر قیمتی مواقع ضائع ہوسکتے ہیں، ‘مالی سال 2020 کے لیے کل بجٹ میں آنے والے اخراجات سے فیصد کے طور پر پینشن کے اخراجات وفاقی اور صوبائی دونوں محاذوں پر صحت اور تعلیم کے اخراجات سے تجاوز کر چکے ہیں اور یہ ترقیاتی اخراجات کے قریب نصف ہے’۔اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اس سلسلے میں عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے بھی بڑھتے ہوئے اخراجات کو ملک کے قرضوں میں استحکام کے لیے ایک تشویش کے طور پر نشان زد کرنا شروع کردیا ہے۔ورلڈ بینک کے اندازوں کے مطابق سول سروس پینشن ادائیگیاں بالترتیب 2023 اور 2028 تک پنجاب اور سندھ میں اجرت کے اخراجات سے آگے نکل جائیں گے اور 2050 تک وفاقی حکومت کے قریب آجائیں گے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘یہ بتانا ضروری ہے کہ ساختی عوامل، جیسے سول حکومت اور فوج کا حجم، پینشن کی غیر منقسم نوعیت، اور نان گزیٹڈ ملازمین کے تناسب کا زیادہ حصہ (مجموعی وفاقی حکومت کے ملازمین کا 95.3 فیصد) سب اہم عوامل ہیں جو ملک میں پینشن اخراجات کی مجموعی سطح پر حکمرانی کرتے ہیں’۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران سرکاری ملازمین بڑی تعداد میں جلد ہی ریٹائر ہو رہے ہیں۔جنوری 2019 تک جس مہینے کے تازہ ترین اعداد و شمار دستیاب ہیں، پنجاب میں تمام نئے ریٹائر ہونے والوں میں سے 60 فیصد سے زیادہ کی عمر 60 سال سے کم تھی اور یہ تناسب گریڈ 16 اور اس سے کم ملازمین کے لیے ریٹائر ہونے والے ملازمین کے لیے 67 فیصد تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.