مرد کی 5 حرکات کو عورت بہت پسند کرتی ہے۔

میں دعوے سے کہتا ہوں رات سونے سے پہلے اگر بیوی کی پیشانی پر بوسہ دے دو تو یقین جانیں وہ آپ کی محبت میں مسکراتے ہوئے پر سکون نیند سوئے گی بیوکی کی پیشانی پر بوسے سے عقیدت پیدا ہوتی ہے،بیوی اندر تک خود میں سکون اور اطمینان محسوس کرتی ہے،خود کو بے خوف محسوس کرتی ہے،خود کو محفوظ ہاتھوں میں محسوس

کرتی ہے ،خود کو امیر ترین عورت محسوس کرتی ہے ،بیوی کتنی ہی غصہ میں ہو کیسا ہی جھگڑا ہو ایک بار پیشانی پر بوسہ بیوی کو اندر تک جھنجھوڑ دیتا ہے اور ایسے موقعوں پر چند بیویاں تو شوہر کے اس عمل کودیکھ کر خوشی سے رو بھی پڑتی ہیں اسی طرح شہر سے باہر جارہے ہو تو جاتے وقت ،اس کو سینے سے لگاؤ اور پیشانی پر بوسہ دو اس عمل سے آپ جتنا وقت بیوی سے دور رہو گے ،بیوی گھر میں سکون سے رہے گی،مسکراتی پھرے گی لہلہاتی پھرے گی۔اسی طرح خود پر لازم کر لو کہ کھانا بیوی کے ساتھ کھانا یا کم از کم دن میں ایک وقت کا کھانا بیوی کے ساتھ کھانا ہے،اگر یہ عمل شروع کریں گے تو یقین جانیں ایک وقت ایسا آئے گا کہ اگر آپ کہیں مصروف ہیں تو آپ کی بیوی بھوکی سوجائے گی لیکن آپ کے بغیر ایک نوالہ پیٹ میں نہیں ڈالے گی اور یہ میاں بیوی کے درمیان محبت کی ایک خوبصورت دلیل ہے۔ کھانا کھاتے وقت ہاتھ سے دو نوالے بیوی کو کھلادیں،یہ عمل شوہر اور بیوی کے درمیان انس پید کرتا ہے ،اگر بیوی کسی بات پر ناراض ہے تو ناراضگی کو دور کرنے میں بے حد مدد گار ثابت ہوتا ہے یہ عمل میاں اور اور بیوی کے درمیان محبت کو تقویت فراہم کرتا ہے۔کھانا کھاتے وقت بیوی کے بنائے ہوئے کھانے کی دو الفاظ میں تعریف کریں یہ بیوی کا حق ہے اس سے بیوی کے اندر حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ دو چار باتیں تھیں جن پر عمل کر کے زندگی کو بہت زیادہ خوبصورت بنایا جاسکتا ہے لوگ کہتے ہیں آپ باتیں تو خوبصورت لکھتے ہیں

لیکن عملی طور پر مشکل ہے ارے جناب کیسی مشکل ان اعمال کو کرنے میں؟نہ ہمارے پیسے لگتے ہیں ،نہ ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی مشکل پیش آتی ہے جناب زندگی کو خوبصورت بنانا پڑتا ہے خوبصورت زندگی بازار میں نہیں ملتی خود بنانا پڑتی ہے ۔ بہت سے لوگ ہیں جو انا کے اندر یہ اعمال نہیں کرتے ایک جگہ پڑھ رہا تھا رسول کریم ﷺ پانی پینے کے لئے پیالے پر وہاں ہونٹ لگاتے تھے جہاں سے ان کی زوجہ ؓ نے ہونٹ لگاکر پانی پیا ہو ۔ جناب اس دنیا کی تمام تر عزتوں کو اکٹھا کر لیا جائے تو رسول کریم ﷺ کی نعلین مبارک میں لگی خاک مبارک کے ایک ذرے کی برابر ی نہیں کر سکتی ۔تو ذرا دیکھیں دونوں جہانوں کے سردار کا اپنی بیویوں کے ساتھ کیسا معاملہ تھا ہم پڑھیں گے تو ہمیں معلوم ہوگا ناں،ہمیں ہمارے دفتری کام،دوستوں اور موبائل سے فرصت نہیں ملتی لہٰذا اپنی انا کو چھوڑ کر ان اعمالوں کو زندگی میں لانا بہت ضروری ہے تا ک آپ کی ازدواجی زندگی ایک خوشگوار ازدواجی زندگی بن جائے ،ورنہ دنیا میں کروڑوں لوگ زندگی گزار رہے ہیں ۔آپ بھی گزار لیں گے کیا فرق پڑتا ہے ،میں اکثر کہتا ہوں زندگی کو گزارنا نہیں ہے زندگی کو جینا ہے اور یہ کام اپنی انا کو چھوڑے بغیر ممکن نہیں، ہمیں اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے ورنہ جسمانی خواہش جانور بھی پوری کر لیتا ہے۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *