یہ جوڑا دراصل کتنی قیمت کا تھا اور اسکو بنانے میں بہت زیادہ ٹائم کیوں لگا ؟

کراچی (ویب ڈٰسک) ’اس جوڑے میں سونے کی تاروں سے کام ہوا ہے۔۔۔ اس جوڑے میں ہیرے جڑے گئے ہیں۔۔۔ یہ اب تک پاکستان میں تیار ہونے والا سب سے مہنگا برائیڈل ڈریس ہے۔۔۔ اس میں استعمال ہونا والا تمام تر میٹریل امپورٹڈ تھا۔۔۔‘یہ اور اس سے ملتی جلتی بہت سی ’افواہیں‘ سوشل میڈیا کی زینت اُس

وقت بنیں جب بختاور بھٹو زرداری کی 29 جنوری کو ہونے والی شادی کی تصاویر ریلیز کی گئیں جس میں وہ ایک نفیس سا عروسی جوڑا زیب تن کیے ہوئے تھیں۔ بی بی سی کے صحافی مکرم کلیم نے اس جوڑے کی ڈیزائنر وردا سلیم سے گفتگو کی ہے جو ذیل میں ان ہی کی زبانی پیش کی جا رہی ہے۔بختارو نے جب ہمیں (وردا سلیم) اپروچ کیا تو ان کے ذہن میں پہلے ہی سے آئیڈیا تھا کہ ہم کس طرح کا کام کرتے ہیں، وہ میرا کام پہلے ہی دیکھ چکی تھیں اور انھوں نے ہمارے ڈیزائنز پر ریسرچ کر رکھی تھی۔ انھیں بہت اچھے سے معلوم تھا کہ ان کا جوڑا کیسا ہونا چاہیے۔ اس سب کی وجہ سے ہمارے لیے یہ جاننا آسان ہو گیا کہ انھیں کیسا کام چاہیے۔ہم اپنے کام میں ڈیٹیلز (جزئیات) پر کافی توجہ دیتے ہیں، ہمارا تھری ڈی کام ہوتا ہے اور غیر روایتی ایمبرائیڈری سٹیچز ہوتے ہیں۔۔۔ اور یہی سب چیزیں ہمارے کام کو دوسروں کے کام سے ممتاز بناتی ہیں۔انھیں ہمارے کام کا سٹائل پسند تھا۔ ہم جس طرح کے کلرز استعمال کرتے ہیں اور جس نفاست کی ایمبرائیڈری کرتے ہیں انھیں یہ سب چیزیں پسند تھیں، شاید یہی چیز انھیں ہمارے پاس کھینچ لائی۔ہمارے 45 کرافٹس مین (کاریگر) یہ جوڑے بنانے میں مصروف رہے اور ہمیں یہ جوڑا بنانے میں سات ہزار گھنٹوں سے زیادہ کا وقت لگا ہے۔ اتنا وقت لگنے کی وجہ یہ ہے کہ اس جوڑے میں پورا ہاتھ کا کام ہے اور ہم نے بہت ہی فائن کوالٹی کا میٹریل استعمال ہوا۔ کام کی نوعیت بہت ہی باریک اور نفیس تھا۔آپ کہہ سکتے ہیں

کہ لگ بھگ چھ سے سات ماہ کا عرصہ لگا۔ ہم نے دو سے تین ماہ ڈبل شفٹس میں 24 گھنٹے کام کیا۔ہماری پہلی ہی میٹنگ میں ان کے پاس ہمارے کام کی تصاویر تھیں اور انھوں نے ہمیں کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ آپ اور آپ کا برانڈ میری شادی کا جوڑا ڈیزائن کریں۔میڈیا پر اس جوڑے کی قیمت اور اس میں سونا اور ہیرے استعمال ہونے کی جو قیاس آرائیاں ہوئی ہیں وہ بالکل بھی سچ نہیں ہے۔نا ہی اس جوڑے میں سونے کی تار استعمال کی گئی اور نا ہی ہم نے اس جوڑے میں کوئی ڈائمنڈز استعمال کیے ہیں (ہنستے ہوئے)۔بطور برانڈ ہم وہ میٹریل استعمال کرنے ہیں تو انتہائی نفیس ہوتا ہے، بختاور کے جوڑے میں بھی مقامی مارکیٹ میں دستیاب سب سے عمدہ اور نفیس کوالٹی کا میٹریل استعمال ہوا جیسا کہ پرلز، ریشم کی تار، سلور اور گولڈ زری کی تار، فرنچ ناٹس، زردوزی کا کام، سلور اور گولڈ لیدر کا کام، درحقیقت ان کے جوڑے کا فیبرک بھی ہاتھ سے تیار کردہ شیفون ہے۔ یہ شیفون بھی مقامی سطح پر تیار کیا جاتا ہے۔ بطور برانڈ ہم پاکستان میں بننے والی عمدہ کوالٹی کی مصنوعات کو ہی استعمال کرتے ہیں۔میں پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ کسی بھی ڈیزائنر کے لیے بختاور ڈریم برائیڈ ہو سکتی ہیں۔ جب کوئی کلائنٹ کسی ڈیزائنر کے پاس جاتا ہے تو اسے اس پر بھروسہ ہونا چاہیے اور جب بختاور ہمارے پاس آئیں تو انھیں ہم پر یہ بھروسہ پہلے ہی سے تھا۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کلائنٹ کام میں بہت زیادہ شامل ہو جاتا ہے مگر بختاور میں ایسا کچھ نہیں تھا۔

ہماری ابتدائی میٹنگز ہو چکی تھیں جن میں تفصیلات طے ہو چکی تھیں اور ہمارے اپروچ اتنی سٹرانگ تھی کہ اس کے بعد اگر مگر کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جب جوڑا بن رہا ہوتا ہے تو کچھ کلائنٹس کہتے ہیں کہ ہمیں تصاویر بھیجیں مگر میرے خیال میں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ شاید کلائنٹ اپنے ڈیزائنر پر بھروسہ نہیں کر رہا۔ میرے خیال میں ایسا اس لیے بھی ہوتا ہے کیونکہ ہر کسی کو اپنے بڑے دن کے حوالے سے خواب ہوتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں سب کچھ پرفیکٹ ہو۔ مگر بختاور نے بالکل کوئی مداخلت نہیں کی اور ہم پر مکمل بھروسہ کیا۔ہمیں پتا تھا کہ ٹائم کم ہے مگر ہم نے پلاننگ اس حساب سے کی۔ مجھے پتا تھا کہ ہمیں کس طرح کا کام کرنا ہے اور کیسا جوڑا تیار کرنا ہے اور اس کے لیے کتنا وقت درکار ہو گا۔ برائیڈلز کا عمومی ٹائم چھ سے آٹھ ماہ ہوتا ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ کیونکہ پورا ہاتھ کا کام ہونا ہے تو اس میں وقت لگے گا۔ ہاتھ کا کام انتہائی مشکل ہوتا ہے بعض اوقات پورا پورا دن گزر جاتا ہے اور کاریگر صرف ایک چھوٹا سا پیس ہی تیار کر پاتا ہے۔ان سب چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے پلاننگ کی تھی کہ کتنے بندے بٹھانے ہیں اور کتنے گھنٹے کام کروانے ہیں تاکہ ہمارا ٹائم پر جوڑا ہو جائے۔ ہمارے ٹرائلز اور ڈیلیوری سب ٹائم پر ہوئے، اس جوڑے کے ساتھ دو دوپٹے تھے جو کافی ہیوی تھے۔ ہم نے پہلے شرٹ کا کام کروانا شروع کیا، اسی کے ساتھ شرارہ اور پھر دوپٹہ۔کورونا تھا اور دوسرے آرڈرز بھی تھے جس کی وجہ سے ہمیں اپنی ٹیم بڑھانی پڑی مگر یہ سب کام کسی آرام سکون سے ہو گیا۔ہم نے آصفہ کے لیے بھی دو جوڑے بنائے تھے جو انھوں نے بختاور کی مہندی اور رخصتی والے دن پہنا تھا۔جوڑے پر ملنے والے ریسپانس پر ہم کافی خوش تھے کیونکہ سب نے ہی اس کی تعریف کی۔ سوشل میڈیا پر بعض جگہ اس جوڑے کے بارے میں غیر حقیقی باتیں ہوئیں اور مجھے ان پر کافی تعجب ہوا۔مگر بہت سے لوگوں نے جو غیر حقیقی باتیں کیں یعنی سونے کی تار کا استعمال اور ڈائمنڈ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا کام اتنا نفیس تھا کہ انھیں ایسا گمان ہے اور یہ بھی ہمارے لیے تعریف ہی ہے ایک طرح سے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *