دجال کے صحابی رسول ﷺ سے تین سوالات

فاطمہ بنتِ قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے اعلان کرنے والے کو سنا وہ اعلان کر رہا تھا چلو نماز ہونے والی ہے میں ماز کے لیے نکلی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی آپ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی اور آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو کر منبر پر بیٹھ گئے اور آپ ﷺ کے چہرے پر اس وقت مسکرا ہٹ تھی آپ ﷺ نے فر ما یا ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر بیٹھا رہے

اس کے بعد آپ ﷺ نے فر ما یا جانتے ہو میں نے تم کو کیوں جمع کیا ہےا نہوں نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم ہے آپ نے فر ما یا بخدا میں نے تم کو نہ تو مال وغیرہ تقسیم کےلیے جمع کیا ہے۔ نہ کسی جہاد کی تیاری کے لیے بس صرف اس بات کے لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری پہلے نصرانی تھا وہ آیا ہے اور مسلمان ہو گیا ہے اور مجھ سے ایک قصہ بیان کر تا ہے جس سے تم کو میرے اس بیان کی تصدیق ہو جائے گی جو میں نے کبھی دجال کے متعلق تمہارے سامنے ذکر کیا تھا وہ کہتا ہے کہ وہ ایک بڑی کشتی پر سوار ہوا جس پر سمند میں سفر کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی اور تھے سمندر کا طوفان ایک ماہ تک ان کا تما شا بنا تا رہا آخر مغربی جانب ان کو ایک جزیرہ نظر پڑا جس کو دیکھ کر وہ بہت مسرور ہوئے اور چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر اس جز یر ہ پر اتر گئے سامنے کی طر ف سے ان کو جانور کی شکل کی ایک چیز نظر پڑی جس کے سارے جسم پر بال ہی بال تھے۔

کہ اس میں اس کے اعضائے مستورہ تک کچھ نظر نہ آتے تھے لوگوں نے اس سے کہا کمبخت تو کیا بلا ہے؟ وہ بو لی میں جساسہ ہوں چلو وہ ہمیں ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے چل پڑی ہم اس کے پیچھے پیچھے ہو لیے وہ کہنے لگی ایک شخص ہے جو کو تمہارا بڑا انتظار لگا ہے حضرت تمیم دارمی فر ماتے ہیں کہ جب اس نے ایک آدمی کا ذکر کیا تو ہم کو ڈر لگا کہ کہیں وہ جن نہ ہو ہم لپک کر اسے گرجے میں پہنچے ت وہم نے ایک بڑا قوی ہیکل شخص دیکھا کہ اس سے قبل ہم نے ویسا کوئی شخص نہیں دیکھا تھا اس کے ہاتھ گردن سے ملا کر اور اس کے پیر گھٹنوں سے لے کر ٹخنوں تک لو ہے۔ کی زنجیروں سے نہا یت مضبو طی سے جکڑے ہوئے تھے ہم نے اس سے کہا تیرا ناس ہو تو کون ہے؟ وہ بو لا تم کو تو میر اپتہ کچھ نہ کچھ لگ ہی گیا اب تم بتاؤ تم کون لوگ ہو انہوں نے کہا کہ ہم عرب کے باشندے ہیں ہم ایک بڑی کشتی میں سفر کر رہے تھے سمندر میں طوفان آیا اور ایک ماہ تک رہا اس کے بعد ہم اس جزیرہ میں آئے تو یہاں ہمیں ایک جانور نظر پڑا جس کے تمام جسم پر بال ہی بال تھے۔ اس نے کہا کہ میں جساسہ خبر رساں ہوں چلو اس شخص کی طرف چلو جو اس گرجے میں ہے اس لیے ہم جلدی جلدی تیرے پاس آ گئے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.