دنیا کی سب سے انوکھی چوری دوکان کے مالک نے ڈاک۔ وؤں کو زیادہ پیسے لینے کے لے دوبارہ آنے کو کہا، وہ پھر آئے اور

6 ڈاکوؤں کے اس گروہ کو بلجئیم کے بے وقوف ترین ڈاک، و کا خطاب دیا گیا ہے۔ بلجئیم کے شہر شارلیروا میں ڈک، یتی کی ایک احمقانہ و، ار، دات ہوئی۔ 6 ڈاکو ای سگ، ریٹ کی ایک دوکان میں داخل ہوئے اور دوکاندار سے کیشن رجسٹر خالی کر کے رقم حوالے کرنے کا حکم دیا۔ یہ سہ پہر 3 بجے کا وقت تھا۔ سیلز مین نے ان ڈاک، وؤں سے کہا کہ

ابھی تو اس نے بمشکل ہی کوئی چیز فروخت کی ہوگی، اگر وہ واقعی رقم چاہتے ہیں تو انہیں دوکان کے بند کرنے کے وقت واپس آنا چاہیے۔ سیلز مین نے ڈاکوؤں کو کہا کہ اگر اس کی ہدایات پر عمل کریں تو شام کو 2 ہزار سے 3 ہزار یورو لے جا سکتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ڈاک، و اس احمقانہ چال میں آ گئے۔ ڈاک، وؤں نے آپس میں مشورہ کیا اور دوکان سے چلے گئے۔ ڈاک، وؤں کے جاتے ہی دوکان کے مالک نے پولیس کو فون کر دیا۔دوکان کے مالک نے پولیس کو سب کچھ بتا دیا اور یہ بھی بتایا کہ اس نے ڈاک، وؤں کو شام کو واپس آنے کا کہا ہے۔لیکن پولیس نے سوچا کہ کوئی ڈاک، و اتنی احمقانہ چال میں کیسے آ سکتا ہے مگر تمام ڈاک، و مقررہ وقت سے ایک گھنٹے پہلے دوکان پر پہنچ گئے۔ اس وقت تک پولیس کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ایسے میں دوکان کےمالک کے پاس انہیں واپس بھیجنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ دوکان کے مالک نے ڈاک، وؤں سے کہا کہ آپ کو گھڑی خریدنے کی ضرورت ہے۔ ابھی ساڑھے چھ نہیں ساڑھے پانچ بجے کا وقت ہوا ہے۔ڈاکو یہ سن کر پھر چلے گئے۔شام کو ساڑھے چھ بجے تمام ڈاک، و لوٹ کا مال لینے کے لیے واپس دوکان پر پہنچ گئے۔ اس وقت دوکان میں موجود سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے ایک کم سن بچے سمیت 5 ڈاک، وؤں کو گرفتار کر لیا جبکہ ایک فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ ان ڈاک، وؤں کو کئی سال جیل میں گزارنے پڑ سکتے ہیں۔دوکان کےمالک نے کہا کہ یہ سب مزاحیہ فلموں جیسا لگتا ہے ۔ ان ڈاک، وؤں کو بلجئیم کے بدترین ڈاک، و کہا جا رہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.