طواہف کی بہن کی سچی کہانی

اس وقت لڑکی کے ساتھ ہم کمرے میں اکیلے تھے۔ لڑکی بے تکلف تھی۔ مسکر اکر بولی ’’گھبرائیے نہیں تشریف رکھئے‘‘۔’’مگر منشی جی کہاں گئے؟‘‘’’وہ بھی آجائیں گے۔ کیا ان کے بنا ڈرتے ہیں؟‘‘ اس نے شوخی سے پوچھا۔’’نہیں تو‘‘۔ یکایک ہماری بہادری عود کر آئی۔’’تو پھر بیٹھئے۔ فرمائیے کیا پئیں گے؟ شربت یا

چائے؟‘‘’’انہیں تو آ لینے دیں‘‘۔ ہم نے ایک صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔منشی جی یہ سارا قصہ سنانے کے بعد شرارت سے پوچھنے لگے۔’’ویسے میاں سچ سچ بتانا۔ وہ لڑکی آپ کو کیسی لگی‘‘۔’’کون لڑکی؟‘‘’’ستارہ اور کون؟‘‘ ’’وہ بھی آجائیں گے مگر کیا آپ ان کے حکم پر چلتے ہیں؟ ان کے پوچھے بنا شربت تک نہیں پی سکتے؟‘‘ اس نے گردن موڑ کر پوچھا تو ہمیں اندازہ ہوا کہ ضرور کچھ گڑ بڑ ہے۔ لڑکی نو عمر تھی، خوش شکل اور خوش پوش بھی تھی مگر اس کی بے باکی اور بے تکلفی میں ہمیں ایک عجیب سی بات محسوس ہوئی۔ وہ ہمارے برابر صوفے پر ہی بیٹھ گئی۔ ہمارا تنکوں والا ہیٹ اب تک اس کے سر پر رکھا ہوا تھا۔ ہم نے ہاتھ بڑھا کر اپنا ہیٹ اتار لیا ’’یہ کیا حرکت تھی۔ ہمارا ہیٹ کیوں اتارا تھا؟‘‘ ہم نے قدرے ناراض ہوکر پوچھا۔’’معافی چاہتی ہوں‘‘۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ دیے اور شوخ نظروں سے دیکھنے لگی۔ ہمیں یکایک ایک عجیب سی پریشانی نے گھیر لیا۔ چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو ماحول بھی اجنبی سا نظر آیا۔ ایک کونے میں ستار اور طبلہ رکھا ہوا تھا۔ اس کے برابر ہارمونیم بھی تھا۔ ہمارے برابر بیٹھی ہوئی نو عمر لڑکی بہت بے پروائی سے ہمیں دیکھ دیکھ کر زیرِ لب مسکرا

رہی تھی۔ اس کے پاس سے بھینی بھینی سی خوشبو بھی آرہی تھی۔ اچانک ہم پر منکشف ہوا کہ ہم کسی عام گھر میں نہیں تھے۔ یہ کسی طوائف کا بالاخانہ تھا۔یہ خیال آتے ہی ہم ایک دم کھڑے ہوگئے۔’’کون ہو تم۔ یہاں کیوں آئی ہو؟‘‘ ہم نے ذرا غصے سے پوچھا۔وہ بدستور صوفے پر بیٹھی مسکراتی رہی۔ پھر بولی ’’میرا تو یہ گھر ہے اس لئے آئی ہوں۔ آپ فرمائیے کیسے آئے ہیں؟‘‘ یہ بے باک لہجہ اور بے حجاب گفتگوسننے کے بعد ہمیں یہ جاننے میں کوئی دقت نہیں ہوئی کہ منشی جی ہمیں کسی طوائف کے بالا خانے پر لے آئے ہیں۔ ہم نے غصے سے اس مسکراتی ہوئی لڑکی کو دیکھا اور تیزی سے پلٹ کر کمرے سے باہر نکل گئے۔ سیڑھیاں اترنے کے بعد بھی ہم چلتے ہی رہے۔ یہاں تک کہ کار کے پاس پہنچ گئے۔ اس زمانے میں کاروں کی چوری کا کوئی تصور نہیں تھا اس لئے کاروں کے دروازے لاک نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ ان میں چابی بھی لگی چھوڑ دی جاتی تھی۔ ہم غصے میں بھرے ہوئے تھے۔ دروازہ کھول کر کار میں بیٹھ گئے۔ ڈرائیونگ ہمیں آتی نہیں تھی ورنہ اسی وقت گھر پہنچ جاتے۔ کچھ دیر بعد منشی جی کا فکر مند چہرہ دکھائی دیا۔ ہمیں دیکھتے ہی ان کے چہرے پر اطمینان کے آثار نمودار ہوگئے۔’’ارے میاں آپ کہاں چلے گئے تھے؟ میں تو وہاں

ڈھونڈ ڈھونڈ کر پریشان ہوگیا‘‘۔ہم نے کوئی جواب نہیں دیا تو منشی جی خاموشی سے سامان پچھلی سیٹ پر رکھ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئے۔ واپسی میں بالکل خاموشی طاری رہی۔ ہم ناراض تھے اور منشی جی سہمے ہوئے تھے۔ کوٹھی کے گیٹ میں داخل ہونے سے پہلے منشی جی نے کار روک دی اور دونوں ہاتھ جوڑ کر بولے ’’میاں جو ہوا اسے معاف کردیں۔ خدا کیلئے گھر میں جاکر نہ بتانا‘‘۔ ہم نے کہا ’’ہم آپ کی شکایت کریں گے۔ آپ نے بہت بری حرکت کی ہے منشی جی‘‘۔منشی جی ندامت سے بولے ’’شرمندہ ہوں، معافی چاہتا ہوں۔ آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔ اللہ کا واسطہ، مجھے معاف کردیجئے‘‘۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ہم نے کہا ’’ٹھیک ہے اب چلیں‘‘۔یہ کسی طوائف کے بالا خانے پر قدم رکھنے کا ہمارا پہلا اتفاق تھا۔ ہم نے کہا ’’ہم آپ کی شکایت کریں گے۔ آپ نے بہت بری حرکت کی ہے منشی جی‘‘۔منشی جی ندامت سے بولے ’’شرمندہ ہوں، معافی چاہتا ہوں۔ آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔ اللہ کا واسطہ، مجھے معاف کردیجئے‘‘۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ہم نے کہا ’’ٹھیک ہے اب چلیں‘‘۔یہ کسی طوائف کے بالا خانے پر قدم رکھنے کا ہمارا پہلا اتفاق تھا۔ بعد میں منشی جی نے ہمیں بتایا کہ جس طرح چور چوری چھوڑنے کے بعد بھی ہیرا پھیری نہیں چھوڑتا اسی طرح منشی جی بھی آنے بہانے طوائفوں کے کوچے میں جاتے رہتے ہیں۔ جس طوائف کے گھر پر وہ ہمیں لے کر گئے تھے اس کا نام چمپا بائی تھا۔ منشی جی اس کے حساب کتاب

دیکھا کرتے تھے اور اس کیلئے کوئی معاوضہ وصول نہیں کرتے تھے۔ چمپا بائی کے اور بہت سے کام بھی منشی جی بلا اجرت کردیا کرتے تھے۔ اس کے بدلے کبھی کبھار کوٹھے پر جاکر اپنا شوق پورا کرلیتے تھے۔ ہم نے پوچھا ’’منشی جی وہ لڑکی کون تھی جس نے ہمارا ہیٹ اتار لیا تھا؟‘‘وہ ہنسنے لگے ’’میاں وہ چمپا بائی کی چھوٹی بہن ہے۔ بہت شوخ ہے۔ میں چمپا بائی سے کہہ رہا تھا ہمارے میاں بھی ساتھ آئے ہیں۔ ان کیلئے شربت بھجوا دو۔ ستارہ نے سن لیا اور پہنچ گئی آپ کے پاس۔ جب بعد میں چمپا بائی نے اسے ڈانٹا کہ وہ کیوں بڑے کمرے میں پہنچ گئی تھی تو پتا ہے اس نے کیا کہا؟‘‘’’کیا کہا؟‘‘’’کہنے لگی۔ میں نے کبھی کوئی لڑکا نہیں دیکھا تھا۔ یہاں تو مرد ہی آتے ہیں۔ بس لڑکے کو دیکھنے کے شوق میں چلی گئی تھی۔ جب آپ خفا ہوکر چلے آئے تو وہ بہت گھبرائی اور چمپا بائی نے مجھ سے کہا تھا کہ میں اس کی طرف سے آپ سے معذرت کرلوں‘‘۔ ہم جھینپ گئے ’’ہم نے تو اسے ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں۔ آپ پر اور اس پر غصہ تھا اسی لئے تو چلے آئے‘‘۔منشی جی نے پان کی گلوری منہ میں رکھی اور رازدارانہ انداز میں پوچھنے لگے ’’اگر طبیعت چاہے تو بے جھجک مجھے بتا دینا میں آپ کو پھر وہاں لے چلوں گا‘‘۔ہم نے کہا ’’منشی۔ اگر دوبارہ آپ نے ایسا کہا تو ہم آپ کی شکایت کردیں گے خالو ابا سے‘‘۔منشی جی فوراً

ہاتھ پیر جوڑنے لگے۔ اب میرٹھ کا اور نو عمری کا ذکر چھڑ گیا ہے تو کیوں نہ کچھ اور بھی بیان ہوجائے۔ سچ پوچھئے تو ہم نے ذہنی، نفسیاتی اور دنیاوی معاملات کا پہلا سبق وہیں سیکھا تھا۔ لائبریری میں اس موضوع پر بے شمار کتابیں موجود تھیں۔ ہمارے پاس وقت بھی بہت تھا۔ پڑھنے کا شوق بھی تھا اس لئے دن رات کتابیں پڑھتے رہتے تھے۔ علمی، ادبی، معلوماتی، تاریخی، مذہبی، روحانی ہر قسم کی کتابیں ہم نے پڑھ ڈالیں۔ طلسم ہوشربا کی تمام جلدوں کا مطالعہ کرلیا۔ اردو ادب، تنقید اور شاعری کے بارے میں وہ سب کچھ پڑھ لیا جو ایم اے کے طلبہ بھی نہیں پڑھتے۔ کچھ سمجھے، کچھ نہیں سمجھے مگر پڑھتے چلے گئے۔ سیاست کے بارے میں تازہ ترین معلومات بڑوں کی گفتگو سے حاصل ہوجاتی تھی۔ اس کے علاوہ ’’ڈان‘‘ اور ’’اسٹیٹس مین‘‘ جیسے انگریزی کے اخبار بھی ڈکشنری کی مدد سے پڑھ لیا کرتے تھے۔ لیکن زندگی کو مختلف رنگوں میں دیکھنے کے ابتدائی سبق بھی ہم نے یہیں پڑھے۔ ہمیں شاگرد پیشے میں جانے کی اجازت نہیں تھی مگر موقع پاکر وہاں پہنچ جاتے تھے اور ان لوگوں کی باتیں سنتے تھے۔ وہاں ہر قسم اور ہر مزاج کے لوگ رہا کرتے تھے۔ ان کی گھریلو زندگی، ازدواجی زندگی سب ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح تھی۔ پھر ریس کے سیزن میں جو کی، ٹرینر اور سائیس اپنے ساتھ بالکل مختلف کہانیاں لے کر آتے تھے۔ ان میں شرابی بھی ہوتے تھے۔ ان کے مسائل بھی ہمارے علم میں تھے۔ ان کی بیویاں

ان کی غیر موجودگی میں کیا کرتی ہیں اور کیوں کرتی ہیں۔ اس کی تفصیلات ہمیں ملازمین اور دوسرے لوگوں کے مابین ہونے والی گفتگو سے حاصل ہوتی رہتی تھی۔ یہ رنگین کہانیاں ہمارے لئے دلچسپی کا باعث تھیں۔ جب پندرہ سال عمر ہوئی تو دوسرے تجربے اور مشاہدے بھی ہونے لگے۔ ان کے لئے ایک الگ کتاب درکار ہوگی۔ ان خواتین کو مختلف روپ میں دیکھا۔ لڑکیاں بالیاں بھی ڈرتے ڈرتے آس پاس منڈلانے لگیں۔ بعض شادی شدہ عورتیں بھی ہمدردی طلب کرنے کے بہانے ہمیں اپنے پاس بلانے لگیں۔ اس عمر میں صنف مخالف میں کشش کا آغاز ہوتا ہے لیکن ظفر نے ہمیں اس معاملے میں مفید مشورے دیے۔ وہ صنف مخالف کی نفسیات اور عادات سے بہت اچھی طرح واقف تھا۔ اس نے ہمیں جو ایک مشورہ دیا وہ ہمارے ذہن میں اٹک کر رہ گیا اور اس نے ہمیں بہکنے اور بگڑنے سے بچالیا ورنہ تمام تر اسباب مہیا تھے۔ ظفر نے کہا ’’میاں آپ کی عمر ایسی ہے کہ عورتوں سے دور ہی رہنا۔ یہ آپ کو طرح طرح کے حیلے بہانوں سے پاس بلائیں گی اور پرچانے کی کوشش کریں گے مگر آپ ان کے نزدیک بھی نہ جانا ورنہ زندگی بھر کیلئے اس نشے میں کھوئے رہیں گے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ حضرت آدمؑ کو ایک عورت ہی نے جنت سے نکلوا دیا تھا‘‘۔ اس نصیحت نے ہمارے ذہن پر ایسا اثر کیا کہ پھر زندگی بھر ہم اس پر عمل پیرا رہے مگر اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھے۔( )
(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.