اب معیشت بس ایک چیز سے ٹھیک ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں یہ والا کرنسی نوٹ بند کر دیا جائے ، حکومت کس نوٹ کو بند کرنے کا ارادہ کیے بیٹھی ہے ؟ جانیں

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ) سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ معیشت ٹھیک کرنے کا واحد علاج 5 ہزار کا نوٹ بند کردیں، مارکیٹ میں بڑے نوٹ ختم کرنے سے مہنگائی بھی کم ہوجائے گی، اشیا کی مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے سے آڑھتی مڈل مین خودبخود ختم ہو جائےگا،

8 ارب ڈالر کی انڈرانوائسنگ کو کم کرکے3 ارب ڈالر کرنا حکومت کا کریڈٹ ہے۔ انہوں نے اپنے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی کاروباری طبقہ جو غیرقانونی تجارت اور ٹیکس چوری کو کاروبار سمجھتا ہے وہ علاقائی تجارتی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے کیونکہ اس میں مسابقت کی صلاحیت نہیں، اگر بھارت کے ساتھ ہی تجارت بحال ہوجائے تو یہ کاروباری طبقہ فارغ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے سرمایہ باہر چھپانے والے افراد چیمبروں اور سمینارز میں پاکستان سے محبت، یک جہتی اور پاکستان کی بھلائی کی تقریریں کرتے ہیں جن کی شکلیں دیکھ کر مجھے غصہ آتا ہے کیونکہ میں انہیں جانتا ہوں اور ایسے تمام افراد کے نام اور ثبوت بھی مہیا کرسکتا ہوں۔سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس چوری اور غیر دستاویزی معیشت کا پیسہ سیاسی جماعتوں کی الیکشن مہم میں انویسٹ کیا جاتا ہے، ایک ایم این اے کی سیٹ پر 20 کروڑ روپے کا خرچہ آتا ہے جو جلسے جلوسوں پر خرچ ہوتا ہے، اس لحاظ سے 360 سیٹوں کا خرچہ کہاں سے آتا ہی یہ تمام خرچ غیر دستاویزی معیشت سے پیسہ کمانے والے فنانسر الیکشن میں لگاتے ہیں اور بعد میں ریکوری کرتے ہیں۔شبر زیدی نے کہاکہ پاکستان سے سرمایہ باہر چھپانے والے جلد مشکلات کا شکار ہوں گے، اکثر کاروباری شخصیات نے مالٹا کی قومیت لی ہے اور سوئس بینکوں میں ان کے اثاثہ موجود ہیں، بیرون ملک اثاثوں پر ایک فیصد منافع بھی نہیں مل رہا جبکہ پاکستان میں اس سرمائے کو ڈکلیئر اور منتقل کرکے بہتر منافع حاصل کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے پاکستان میں ٹیکسوں کی بلند شرح کو بھی ٹیکس چوری غیر دستاویزی کاروبار کی ایک وجہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں سگریٹ پر 74 فیصد ٹیکس عائد ہے جس کی وجہ سے سگریٹ کی غیر قانونی تجارت بڑھ رہی ہے اور 30 فیصد سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سگریٹ کی غیرقانونی فروخت قومی خزانے کو ٹیکس چوری سے پہنچنے والے سب سے زیادہ نقصان کا سبب ہے، اس کے علاوہ چینی، بیٹری، الیکٹرانک مصنوعات، موٹر سائیکلیں، سائیکلیں، سیمنٹ، کنزیومر مصنوعات، پیک مسالہ جات وہ اشیا ہیں جن کا غیر قانونی تجارت میں حصہ سب سے زیادہ ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *