’’ سنو مسٹر ! ہمیں پاکستان کی آپ سے ۔۔۔۔‘‘ پاکستانی حکومت کے خلاف شکایات، جوبائیڈن نے افغان صدر کو کیا جواب دیا؟ پاکستان اور امریکہ میں تعلقات استوار ہونے کا امکان

لاہور(نیوز ڈیسک ) جوبائیڈن کا جیتنا پاکستان کے لیے کیسا ثابت ہوسکتا ہے؟ سینئر صحافی حامد میر کا مشاہد حسین سید سے سوال، لیگی رہنماء نے ساری صورتحال واضح کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق اپنے پروگرام میں حامد میر کی جانب سے مشاہد حسین سید سے سوال کیا گیا کہ ’’ جوبائیڈن کا جیتنا پاکستان کے لیے کیسا رہے گا،2008میں جب

جوبائیڈن دورہ افغانستان پر گئے تو وہاں کیا ہوا تھا؟‘‘ جواب دیتے ہوئے مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ’’جوبائیڈن پاکستان سے متعلق اچھے خیال رکھتا ہے اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ 2008میں کابل دورے پر جب اس وقت کے افغانی صدر حامد کارزائی نے جوبائیڈن سے پاکستان مخالف باتیں کرنا شروع کر دیں اور شکایات کے انبار لگائے تو جوبائیڈن غصہ ہو گئے اور طیش میں آ کر کارزائی سے کہا سنو مسٹرکارزائی! ہمیں پاکستان کی آپ سے پچاس فیصد زیادہ ضرورت ہے ،اس لیے اس قسم کی باتیں کرنا بند کرواور کوئی کام کی بات کرو‘‘۔ مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ میرے اندازے کے مطابق جوبائیڈن کا امریکہ کا صدر منتخب ہونا پاکستان کے لیے نیک شگون ثابت ہوگا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی ایک نئی راہ ہموار ہوگی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.