کپتان کاتختہ الٹنے کابندوبست ہوگیا،کون کون ملوث؟تہلکہ خیز دعویٰ کردیاگیا

سینئر صحافی ہارون الرشید نے دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے عالمی سطح پر سازش ہورہی ہے جس میں ایک سپرپاور اور ایک عرب ملک بھی شامل ہے، اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلیے پاکستان میں ایک مذہبی جماعت کو ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ہارون الرشید نے

نجی ٹی وی 92نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف سازش کا مقصد پاکستان کو دوست ملک چین کے بلاکمیں جانے سے روکنا ہے ۔ منصوبے کے تحت پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کی جائے گی۔ منصوبے کا مقصد خطے میں بھارت کی بالا دستی کو یقینی بنانا ہے اس سلسلے میں پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ منصوبے کے مطابق پاکستان میں موجود سول سوسائٹی اور لبرل حلقے عالمی سازش کی حمایت کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں عالمی سازش تیار ہورہی ہے تو حکومت پاکستان اور تمام ادارے ایک پیج پر ہیں جو کسی بھی عالمیسازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ دوسری جانب انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ پنجاب میں آئی جی ، چیف سیکرٹری سمیت متعدد سیکرٹریز کے تبادلے کا امکان ہے۔ کلیم امام کو آئی جی پنجاب بنایا جاسکتا ہے کیونکہ کلیم امام کی پرفارمنس بہترین رہی ہے۔دوسری جانب گنے کے کرشنگ سیزن کے دوران بڑھتی قیمتوں کے باعث حکومت نے قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے بغیر کسی ٹیکس اور ڈیوٹی کے تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی کی درآمد کو فوری طور پر اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈان نیوز کے مطابق اس میں سرکاری شعبے کے توسط سے 5 لاکھ ٹن ری فائنڈ چینی کی ٹیکس اور ڈیوٹی فری درآمد شامل ہے جبکہ اس کے علاوہ مقامی شوگر ملز کو مزید3 لاکھ 50 ہزار ٹن

خام شوگر درآمد کرنے کی پیش کش ہے۔یہ فیصلہ اصولی طور پر وزیر اعظم آفس میں مہنگائی کی صورتحال اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے طلب کیے گئے حالیہ اجلاس کے دوران کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس – جو تجارت اور صنعتوں جیسی متعلقہ وزارتوں کا ایک فورم ہے، نے بعد میں چینی کی درآمد کے لیے سفارشات مرتب کیں کیوں کہ قیمتوں میں کمی کے چند ہفتوں کے اندر اندر ہی قیمتیں واپس بڑھنے لگی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے 12 دسمبر کو متعلقہ سرکاری ایجنسیوں کو عوامی طور پر مبارکباد دی تھی جن کی مربوط کوششوں سے چینی کی قیمتوں کو 100 روپے سے کم کر کے 80 روپے فی کلو تک پہنچانے میں مدد ملی تھی۔تاہم اگلے چند ہفتوں میں قیمتیں دوبارہ 90 روپے سے تجاوز کرگئیں اور لاہور اور کراچی میں اس نے 100 روپے فی کلو کی سطح بھی چھو لی۔یہ مبینہ طور پر ان قیاس آرائیوں پر مبنی تھا کہ اس سال ستمبر کے آخر تک چینی کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔عہدیداروں نے کہا کہ حکومت قیمتوں میں استحکام کے لیے مارکیٹ میں لگ بھگ 8 لاکھ 50 ہزار ٹن اضافی چینی کو یقینی بنائے گی۔اس میں سے تقریبا 5 لاکھ ٹن ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے ذریعے اور باقی 3 لاکھ 50 ہزار ٹن نجی سیکٹر یعنی شوگر ملز کے ذریعہ درآمد کی جائے گی۔پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حالیہ ہفتوں میں مختلف صوبائی حکومتوں کی جانب سے منظور شدہ گنے کی قیمت کو یقینی بنانے میں ناکامی پر گنے کے کمشنرز کی نا اہلی کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا جس کے نتیجے میں پیداواری لاگت اور مارکیٹ کے نرخ میں اضافہ ہوا۔گزشتہ دو سالوں کے دوران چینی کی قیمتوں کا موازنہ کیا جائے تو اگست / ستمبر 2018 میں 60 روپے سے بڑھ کر اگست / ستمبر 2020 میں 115 روپے ہوئی جبکہ گزشتہ مہینے کی ابتدا میں اس میں تھوڑی بہت کمی آئی تھی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.