وہ وقت جب دانیال عزیز کے والد نے انہیں دھمکی دی ، اگر تم نے جاوید چوہدری کے ساتھ بدتمیزی فوری بند نہ کی تو میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا ۔۔۔۔ جاوید چوہدری نے حیران کن واقعہ شیئر کر ڈالا

لاہور (ویب ڈیسک) انور عزیز چوہدری کی ذات میں سیاست کے ساتھ ساتھ آرٹ‘ کلچر‘ موسیقی اور ادب بھی گندھا تھا‘ اختری بائی اور ملکہ پکھراج سے لے کر نور جہاں مہدی حسن اور شوکت علی تک ملک کے تمام بڑے گلوگار چوہدری صاحب کے ذاتی دوست تھے‘ یہ ان سے ملتے بھی رہتے تھے

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ ان کے مہمان بھی رہتے تھے‘ فیض احمد فیض اور حبیب جالب سے لے کر احمد فراز اور منیر نیازی تک تمام نامور شاعر بھی ان کے دوست اور مہمان تھے‘ پوری زندگی کتابیں ان کی دوست رہیں‘ زندگی کی کوئی ایک رات ایسی نہیں گزری جس میں چوہدری صاحب نے کتاب نہ پڑھی ہو۔کتاب اگر اچھی ہوتی تھی تو یہ دن رات ایک کر دیتے تھے اور کتاب مکمل کر کے ہی باہر نکلتے تھے‘ ریسرچ کی عادت تھی‘ لائیو اسٹاک اور بیجوں پر بے انتہا ریسرچ کی‘ سارے زرعی سائنس دانوں کا ڈیٹا ازبر تھا‘ دنیا جہاں سے بیج منگوا کر اگاتے تھے اور پھر یہ بیج مختلف دوستوں میں تقسیم کرتے تھے‘ بکریوں اور گائیوں کا چھوٹا سا فارم ہاؤس بھی بنا لیا‘ اچھی نسل کی بکریاں اور گائے پیدا کیں اور لوگوں میں تقسیم کر دیں‘ کھجور‘ مالٹا اور انجیر اگائی اور لوگوں کو یہ اگانے کا طریقہ بھی سکھاتے رہے‘ جوانی میں ایتھلیٹ رہے تھے‘ تیراکی کا آخری سانس تک شوق رہا‘ واک نہیں کرتے تھے۔کھانے میں بھی پرہیز نہیں کرتے تھے لیکن اس کے باوجود 89 سال تک ایکٹو زندگی گزاری‘ کیا وجہ تھی؟ بتاتے تھے ’’میں ایکٹو رہتا ہوں‘ نوجوانوں کو دوست بناتا ہوںاور خوش رہتا ہوں‘‘ ملک کے بڑے اور نامور صحافیوں کے ساتھ بھی بڑا گہرا تعلق تھا‘ میں اس فہرست میں شامل نہیں تھا‘ میں کبھی ان کی محفل کا حصہ نہیں بن سکا لیکن زندگی کے ہر اہم موڑ پر ان کا فون ضرور آیا‘ میرا ایک بار ایک اینکر سے جھگڑا ہو گیا‘ میں اسے اپنی غلطی سمجھتا ہوں۔

مجھے ایک شخص کو اتنا موقع نہیں دینا چاہیے تھا کہ وہ میرے گلے پڑ جاتا‘ میں نے اس واقعے سے سیکھا تھا آپ زندگی میں کبھی دوسرے کے اتنا قریب نہ جائیں کہ آپ کی قدر ختم ہو جائے‘ اس واقعے کے بعد پہلا فون حافظ سعید صاحب کا آیا تھا اور دوسرا چوہدری انور عزیز کا‘ ان کا کہنا تھا ’’تم اچھے بھلے سمجھ دار ہو‘ تم نے یہ کیا کیا‘‘ میں نے عرض کیا ’’یہ واقعی میری بے وقوفی تھی‘ مجھے غصہ کنٹرول کرنا چاہیے تھا‘‘ وہ قہقہہ لگا کر بولے ’’اوئے چوہدری‘ کیا تمہیں بھی غصہ آتا ہے‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’جی ہاں کبھی کبھی‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’پھر اس پر کیوں آیا تھا‘‘ میں نے کہا ’’اس نے مجھے مغلطات دی تھیں اور یہ چیز مجھ سے برداشت نہیں ہوتی‘‘ ۔ یہ تھے انور عزیزچوہدری‘ دانیال عزیز ان کے صاحب زادے ہیں۔یہ ن لیگ کے دور میں مولا جٹ بنے ہوئے تھے اور یہ اینکرز تک سے لڑ پڑتے تھے‘ یہ ایک پروگرام میں میرے ساتھ بھی الجھ پڑے‘ ان کا بلڈ پریشر اسٹوڈیو کی چھت کو چھو رہا تھا‘ اس دوران فون اسکرین مسلسل چمکنے لگی‘ یہ کال کاٹتے رہے لیکن کال مسلسل آتی رہی‘ وقفہ ہوا‘ دانیال عزیز نے کال سنی ’’اوکے‘‘ کہا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگے‘ پروگرام سکون سے گزر گیا‘ پروگرام کے بعد انھوں نے انکشاف کیا‘ چوہدری صاحب کا فون تھا‘ انھوں نے مجھے وارننگ دی‘ تم نے اگر اس کے ساتھ بدتمیزی کی تو میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا اور میں باقی پروگرام میں اپنی ٹانگیں بچاتا رہ گیا۔ چوہدری صاحب بے انتہا ذہین انسان بھی تھے‘ یہ1973 میں ذوالفقار علی بھٹو سے ملے تو ایک ہی ملاقات میں بھٹو صاحب جیسے ذہین انسان کوبھی اپنا گرویدہ بنا لیا‘ کیسے؟ یہ بتاتے تھے‘ میں نے جب بھٹو صاحب سے بات شروع کی تو میں نے ہم کا صیغہ استعمال کیا’’ ہم یہ کریں گے‘ ہمیں یہ کرنا چاہیے‘ ہمیں پارٹی کے منشور میں یہ تبدیلی کرنی چاہیے‘‘ وغیرہ وغیرہ جب کہ باقی تمام لوگ میں میں کر رہے تھے‘ اس کے بعد انھوں نے بتایا‘ یاد رکھو تم جب بھی کسی بااختیار اور بااقتدار شخص سے ملو تو میں میں نہ کرو کیوں کہ وہ شخص خود میں میں ہوتا ہے اور اسے دوسروں کی میں میں بری لگتی ہے‘ تم جب بھی کہو ہم کہو تاکہ اسے احساس ہو آپ اس کی میں کو اون کر رہے ہیں‘ وہ تمہاری عزت کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔یہ تھے انور عزیزچوہدری‘ ہمارے بڑے چوہدری صاحب اور ہمیں اب اپنے اس بڑے چوہدری صاحب کے بغیر زندگی گزارنی ہو گی‘ ایک بے کیف اور بلیک اینڈ وائیٹ زندگی کیوں کہ زندگی کے سارے رنگ تو وہ اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.