یہ بات سامنے آئی ہے

تفصیلات کے مطابق کئی ممالک میں درمیانی اور عمررسیدہ خواتین کے لیے جسمانی مشقت کا معیار اتنا رکھا گیا ہے کہ وہ 30 منٹ میں ایک میل کا سفر طے کرسکیں۔ اگر چلنے کی رفتار اس سے زائد ہو تو مزید بہتر ہوگا۔ یہ تحقیق ہائپرٹینشن نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔مطالعے میں درمیانی عمر اور بزرگ خواتین کو شامل کیا گیا ہے جن کی عمریں

50 سے 79 برس تک ہیں۔ کل 80 ہزار خواتین کو شامل کیا گیا جو سُن یاس ( مینوپاز) سے گزرچکی ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فالتو بیٹھے رہنے سے خواتین میں امراضِ قلب کے سنگین مسائل کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلسل بیٹھنے سے اجتناب کریں کیونکہ دن میں 9 گھنٹے سے زائد بیٹھنے سے دل کے امراض بالخصوص ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 42 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس روش کو ختم کرنے کے لیے ماہرین کا اصرار ہے کہ روزانہ باقاعدگی سے تیز قدموں سے چلا جائے۔یونیورسٹی آف بفیلو کے ماہر پروفیسر مائیکل لے مونٹے نے دو مقالے پیش کئے ہیں جن کا خلاصہ ہے کہ ’تندرست دل کے لیے دیر تک بیٹھنے سے اجتناب کیا جائے۔مطالعے سے معلوم ہوا کہ روزانہ نصف گھنٹے یا ہفتے میں 150 منٹ کی تیزقدموں سے واک عمررسیدہ خواتین میں بلند بلڈ پریشر کا خطرہ کم کرتی ہے۔ ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو خواتین روزانہ نصف گھنٹے پیدل چلتی ہیں وہ زائد بلڈ پریشر کے طویل عارضے کا شکار ہونے سے بچ جاتی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.