والدین اور بچوں کیلئے ناقابل یقین خبر۔۔ وفاقی حکومت نے سکولز کھولنے کی اجازت دیدی،ہفتے میں کتنے دن تعلمی ادارے کھلیں گے؟جانیے تفصیل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے نجی سکولوں کو ایک دن بچوں کو بلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا، حکومت نے ریلیف فنڈ کے تحت نجی سکولوں کیلئے بلاسود قرضے اور رجسٹریشن میں ایک سال کی توسیع دینے کا فیصلہ بھی کیا، نجی اسکولوں نے11 جنوری کو ادارے کھولنے کا مطالبہ پیش کیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد

میں آج وفاقی سیکرٹری تعلیم فرح حامد سے نجی تعلیمی اداروں کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں نجی وفد نے 11 جنوری کو نجی تعلیمی ادارے کھولنے کا مطالبہ پیش کیا۔جس پر وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا کہ نجی تعلیمی اداروں کو ہفتے میں ایک دن تعلیمی سرگرمیوں کیلئے کھولنے کی اجازت دے دی جائے گی، جس میں بچے بھی ایک دن سکول آسکیں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی سیکرٹری تعلیم نے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ نجی تعلیمی اداروں کی بہتری کیلئے حکومت تمام کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔جس کے تحت وفاقی حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے، ریلیف فنڈ کے تحت چھوٹے اور کم فیس وصول کرنے والے سکولوں کو بلاسود قرضے دینے کیلئے سمری بھی تیار کرلی گئی ہے۔تاکہ نجی تعلیمی اداروں کو آسان قسطوں پر قرضے دیے جاسکیں گے۔ اسی طرح کورونا وباء کے دوران کاروباری منفی اثرات کو کم کرنے کیلئے نجی اسکولوں کی رجسٹریشن میں ایک سال کی توسیع جبکہ فیڈرل بورڈ میں داخلہ جات بھجوانے کی آخری تاریخ بھی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مزید برآں نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ میں ایک دن بچوں کوپرائیویٹ سکولوں میں بلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔وفاقی سیکرٹری تعلیم فرح حامد سے ملاقات کے دوران چیئرپرسن پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی(پیرا) مسز ضیاء بتول بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد میں ملک ابرار حسین، راجہ ارشد محمود، چودھری عبیداللہ، ملک محمد عمران ، ڈاکٹر افراہیم ستی، ملک دین محمد اعوان، قاسم عباس،ریحانہ ظہیر اور طارق محمود بھی شامل تھے۔ ملک ابرار احمد کے مطابق نجی تعلیمی ادارے تعلیمی ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ گیارہ جنوری سے حکومتی فیصلے کے مطابق تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔ ملک ابرار حسین کے مطابق جنوری کے بعد تعلیمی اداروں کی مزید بندش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.