سعودی لڑکی کو 6 سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا، لیکن اس کا قصور کیا ہے؟ جان کر پاکستانی ہکا بکا رہ گئے کیونکہ

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دلانے کے لیے کام کرنے والی ایک کارکن لڑکی کو ایسے جرم میں جیل کی سزا سنا دی گئی ہے کہ دنیا کے لیے سن کر یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ میل آن لائن کے مطابق 31سالہ لوجیان الحثلول نامی یہ لڑکی خواتین کے حقوق کی کارکن ہے اور سعودی عرب میں

خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کی مہم میں بھی کافی سرگرم رہ چکی ہے۔ لوجیان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ لوجیان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ بات کی تھی اور اقوام متحدہ میں ملازمت کے لیے درخواست دی تھی جس پر اسے گرفتار کر کے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اب اسے 6سال قید کی سزا سنا کر جیل بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم پراسکیوٹرز کی طرف سے اس پر عدالت میں غیرملکی طاقتوں کے لیے جاسوسی کرنے اور ملک میں امن عامہ خراب کرنے کی سازش کا حصہ بننے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ واضح رہے کہ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دلانے کے علاوہ خواتین کے لیے لازمی قرار دی گئی مرد گارڈین شپ کا خاتمہ کرانے اور سعودی خواتین کو دیگر بنیادی حقوق دلانے کے لیے بھی لوجیان پیش پیش تھی اوراس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہی لوجیان کا جرم ہے کہ اس نے خواتین کو حقوق دلانے کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *