سعودی حکومت کا ایک اور شاندار فیصلہ! تارکین وطن کو بڑی خوشخبری سُنا دی

ریاض(نیوز ڈیسک ) سعودی عرب میں کورونا بحران کے باعث معاشی سرگرمیاں بُری طرح متاثر ہوئی ہیں، جن کے سب سے زیادہ منفی اثرات تارکین پر پڑے ہیں۔ حکومت کی جانب سے رواں ماہ کے دوران کھانے پینے کی اشیاء پر بھی ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ کچھ دنوں سے یہ خبریں بھی سُننے میں آ رہی تھیں کہ

سعودی حکومت مملکت میں انکم ٹیکس میں اضافے کا ارادہ رکھتی ہے۔تاہم سعودی وزیر خزانہ کے بیان نے ان افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ العربیہ نیوز کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کہا ہے کہ جولائی کے رواں مہینے کے اعداد و شمار معاشی بحالی کی علامت ہیں لیکن ابھی بھی بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔انہوں نے بدھ کو کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال اور اس سے نمٹنے کی حکمت عملی کے حوالے سے کئی سوالات کے جواب دیئے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ فی الحال سعودی عرب میں انکم ٹیکس لگانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ویسے بھی اس اسکیم کی تیاری میں خاصا وقت لگتا ہے۔موجودہ وقت میں انکم ٹیکس کی کوئی سکیم زیر غورنہیں ہے ، البتہ اگر ضرورت پیش آئی تو اسے مستقبل میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔الجدعان نے مزید کہا کہ سعودی معاشی کساد بازاری کی رفتار بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی توقع کے مطابق 6.8 فیصد سے کم ہو گی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ جولائی میں مقامی طلب کی بدولت سعودی عرب میں سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ سعودی عرب نیاس سال اندرون ملک سے طے شدہ پروگرام سے کہیں زیادہ قرضے لیے ہیں۔عوامی سرمایہ کاری فنڈ کے بارے میں الجدعان نے کہا کہ عوامی سرمایہ کاری فنڈ میں کافی لیکویڈیٹی ہے۔الجدعان نے کہا کہ دسمبر میں اعلان کردہ بجٹ اخراجات میں سال کے آخر تک ممکنہ طور پر کوئی تبدیلی نہیں ہوگی لیکن کچھ شعبوں بہتری اور بحالی کی امید جا سکتی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ منی مارکیٹ میں چند کمپنیوں کی پیش کش کی خواہش ہے لیکن ہم انہیں 2020-2021 میں لانچ کریں گے۔ ہم صحت کی دیکھ بھال کرنے والی کمپنیوں اور تعلیمی شعبے کی نجکاری پر بھی غور کریں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.