میرا پیسہ پانی کی طرح بہہ گیا اور جلسے میں لوگ ہی نہیں آئے! مریم نواز لاہور جلسے کی ناکامی پر دلبرداشتہ، کیا قدم اُٹھا لیا؟ (ن) لیگ میں افسردگی

لاہور (نیوز ڈیسک) سینئر تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ مریم نواز نے جلسے میں بڑا ہجوم نہ لانے والوں کی انکوائری کے لیے دو لوگوں کو مامور کر دیا ہے۔پروگرام کے دوران تجزیہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج مسلم لیگ ن کے کچھ عہدے داران ،ایم این اے اور ایم پی اے سے بات ہوئی جن کے مطابق مریم نواز سخت سیخ پا ہیں۔

مریم نواز نے پارٹی قائدین سے کہا میرا اتنا پیسا تقسیم ہوا، اتنے وعدے کیے گئے لیکن لاہور جلسے میں زیادہ لوگ کیوں نہیں آ سکے۔تمام لوگ جو ریلیاں لے کر جلسے میں آئے تھے مجھے اس کی ویڈیو بھیجیں۔مریم نواز نے مزید کہا کہ ایک بات یاد رکھ لیں جس نے اس جلوس میں شرکت نہ کر کے نہ صرف میرے بلکہ نواز شریف کے بیانیے کی مخالفت کی ہے میرے پاس ایسے لوگوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔عارف حمید بھٹی کے مطابق مریم نواز نے اندرونی طور پر دو لوگوں کو ایسے لوگوں کی انکوائری پر مامور کر دیا ہے جو جلسے میں بڑا ہجوم نہیں لا سکے۔خیال رہے کہ گذشتہ روز مسلم لیگ ن کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس ہوا تھا اجلاس میں لاہور کا جلسہ توقعات کے مطابق نہ ہونے پر بحث کی گئی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما جلسے میں لوگوں کی زیادہ تعداد نہ لانے پر ایک دوسرے کو الزام دیتے رہے۔پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ کچھ رہنما جلسے میں نہیں آئے، تحقیقات کے بعد کارروائی ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی میں جزا و سزا کا عمل شروع ہو گا۔ خواجہ سعد رفیق نے پنجاب کے تنظیمی ڈھانچے پر بھی اعتراضات اٹھائے۔انہوں نے کہاکہ جلسے کے لیے جتنی کرسیاں منگوائی تھیں وہ عوام میں بانٹ دیں۔جس پر مریم نواز نے کہا کہ سعد رفیق صاحب! پارٹیاں پیسوں سے نہیں بندوں سے بنتی ہیں۔خواجہ سعد رفیق نے جلسے کے لیے پارٹی انتظامات کے لیے پارٹی فنڈنگ پر اطمیینان کا اظہار کیا۔ سعد رفیق نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات بڑے رہنما چھوٹے تنظیمی عہدیداروں کو آپس میں لڑا دیتے ہیں۔سعد رفیق نے کہا کہ کچھ لوگوں نے گذشتہ روز ذمہ داری نہیں نبھائی۔جن لوگوں نے جلسے میں ذمہ داری نہیں نبھائی انہیں پوچھا جائے۔جس پر مریم نواز نے کہا کہ ذمہ داری نہ نبھانے والوں سے سوال کیا جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.