ایک روز سابق صدر جنرل پرویز مشرف ہمارے گھر آئے تھے اور میری والدہ کو ۔۔۔! میڈم نور جہاں کی بیٹی کا حیران کن انکشاف

پاکستانی فلم انڈسٹری اور ٹی وی کو درجنوں لازوال گیت دینے والی، تمغۂ امتیاز اور پرائیڈ آف پرفارمنس کی حامل معروف گلوکارہ و اداکارہ ملکہ ترنم نور جہاں کو گزرے 20 برس بیت گئے۔ آج ان کی 20ویں برسی کے موقع پر ان کی بیٹیوں حنا درانی، منیٰ حسن اور نازیہ اعجاز نے ایک ساتھ بیٹھ کر اپنی والدہ کو یاد کیا اور

انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی ہے، جو جنوبی ایشیا میں ایک عظیم ترین اور بااثر گلوکارہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ یہ ویڈیو حنا درانی کے نئے ٰیوٹیوب چینل پر ریلیز کی گئی جہاں انہوں نے اپنی والدہ کی دانشمندی اور ان کے ساتھ گزاری زندگی کے تجربات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ والدہ (نور جہاں) کی ایک بڑی بہن تھیں، آپی عیدت جو بہت خوبصورت تھیں، کیٹ ونسلٹ جیسی لگتی تھیں اور ان کے لیے ماں جیسی تھیں۔ نور جہاں کی تینوں بیٹیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کی والدہ وقت سے آگے تھیں۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ کس طرح شوہر سے علیحدگی کے باوجود انہوں نے باہمی احترام کا رشتہ برقرار رکھا تھا۔ حنا درانی نے کہا کہ ان کی والدہ کو پاکستان سے بہت زیادہ محبت تھی، انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے واپسی پر وہ اپنے ملک کی سرزمین پر سجدہ ریز ہوگئی تھیں۔ حنا درانی نے مزید کہا کہ ‘سابق صدر پرویز مشرف ایک مرتبہ ہمارے گھر آئے تھے اور والدہ کو بتایا تھا کہ وہ جنگ کے دوران ان کے نغمے سنتے تھے اور وطن کے لیے ان کا جذبہ بڑھاتے تھے۔ خیال رہے کہ شوہر سے علیحدگی کے بعد میڈم نورجہاں نے

بچیوں کو بورڈنگ اسکول بھیج دیا تھا لیکن وہ انہیں بہت زیادہ یاد کرتی تھیں۔ ملکہ ترنم کی بیٹیوں نے بتایا کہ ‘ایک مرتبہ، نور جہاں نے ڈگی میں 3 صدقے کے بکرے ان کے بورڈنگ اسکول بھیجے تھے کیونکہ والدہ نے کوئی برا خواب دیکھا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ‘ہماری سالگرہ بھی کافی پرجوش ہوتی تھی، چاہے کسی کی بھی سالگرہ ہو تینوں کی تمام کلاس فیلوز کو مدعو کیا جاتا تھا۔نور جہاں کی بیٹیوں نے کہا کہ انہوں نے ہمیں شاید بورڈنگ بھیج دیا ہو لیکن ہم ہمیشہ ساتھ تھے، ہم بورڈنگ کے وہ بچے تھے جو باہر جاتے تھے اور ہر ویک اینڈ پر ان سے ملتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ‘ جب ہماری والدہ لکھتی تھیں تو احمد فراز صاحب میری والدہ کی اصلاح کرتے تھے اور ان کے کام میں ترمیم کرتے تھے۔ ملکہ ترنم کی بیٹیوں کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ کو شاعری کا بہت زیادہ شوق تھا۔ انہوں نے کہا کہ ‘دنیا ان کے قدموں میں تھی لیکن نور جہاں کے لیے ان کے 6 بچے ان کی دنیا تھے، انہوں نے کبھی اپنے بچوں میں خامی نہیں دیکھی وہ صرف انہیں محبت کرتی تھیں۔ ملکہ ترنم کی بیٹیوں نے کہا کہ ‘نور جہاں کے دن، رات اور فرصت کے تمام اوقات ان کے بچوں کے لیے تھے اور ہم نے بھی ان سے ایسی ہی عادات اپنائی ہیں، ہم تینوں اپنے بچوں کے لیے اب ان کے جیسی مائیں ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ ملکہ ترنم کی تصاویر دیکھیں تو ان کا

اسٹائل ہمیشہ نیا ہوتا تھا، وہ اپنے ٹرینڈز بناتی تھی، تبدیل ہونے کو تیار رہتی تھیں اور اس کے ساتھ دوڑتی تھیں، ہم نے ان سے خود کو گروم کرنا بھی سیکھا۔ ویڈیو میں مزید کہا گیا کہ ‘وہ نہ صرف ایک اچھی آواز کی مالک تھیں بلکہ ان کی پرسنالٹی بھی بہت شاندار تھی’۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم لندن میں تھے تو کئی مداح عجیب وقت پر آجاتے تھے اور کبھی انہیں کسی کو نہ کرتے نہیں دیکھا۔ بیٹیوں نے کہا کہ ‘وہ بہت شائستہ تھیں، میں نے کبھی انہیں اپنے بارے میں سوچتے نہیں دیکھا تھا، وہ بہت زیادہ خیراتی کام کرتی تھیں لیکن وہ کسی جگہ پر مانگنے والے یا کسی درخت کے پیچھے بیٹھی کسی ضرورت مند خاتون کو بھی دیکھ لیتی تھیں کہ انہیں مدد کی ضرورت ہے، انہوں نے اپنی پوری زندگی یہی کیا’۔ نور جہاں کی بیٹیوں نے کہا کہ وہ اپنے فن میں مہارت رکھتی تھیں لیکن انہوں نے ہمیں ہمیشہ ایک بات سکھائی کی کہ بیٹا کوئی راہ چلتا بھی کچھ سکھا جائے تو ہاتھ جوڑ کر سیکھ جاؤ۔دوسری جانب ملکہ ترنم کی 20ویں برسی کے موقع پر ان کے نواسے اور اداکار و کامیڈین احمد علی بٹ نے نور جہاں کی ایک یادگار تصویر شیئر کی ہے۔ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری اسٹوری میں احمد علی بٹ نے والدہ ظل ہما، نانی نور جہاں اور بھائیوں کے ساتھ بچپن کی ایک یادگار تصویر شیئر کی۔ احمد علی بٹ نے اپنی اسٹوری میں ملکہ ترنم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ‘اس عورت کے نام جو مردوں کی دنیا میں اٹھ کھڑی ہوئی اور ملکہ بنی’۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ’نورجہاں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی‘۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.