پاکستان میں تعلیمی ادارے کھلنے جا رہے ہیں ؟ بچوں کیلئے بڑی خبر

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کا کہنا ہے کہ میں اسکولز کھولنا چاہتا ہوں۔ وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس نے ریٹائرمنٹ سسٹم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال ریٹائرمنٹ چیک براہ راست اساتذہ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔ 31 ہزار پرائیوٹ اسکولوں نے رجسٹریشن کروا لی ہے۔ چائلڈ ایجوکیشن

بک لانچ کی ہے۔یہ بین الاقوامی معیار کی کتاب ہے۔مراد راس نے کہا کہ پانچویں جماعت کے امتحانات میں ٹیچرز نقل کروا رہے تھے۔ اسسمنٹ پالیسی کے تحت پانچویں جماعت کے امتحانات ختم کیے۔تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ 4 جنوری کو چاروں صوبوں کے وزراء تعلیم کا مشترکہ اجلاس ہے۔ اجلاس میں اسکول بند رکھنے کی مدت میں توسیع کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر سکول بند رکھنے کے حق میں نہیں ہوں۔کورونا وبا سے تعلیم کا بہت نقصان ہو رہا ہے۔موجودہ حالات میں اسکولز مزید بند کرنے کی طرف جا سکتے ہیں۔ دوسری طرف 11 جنوری سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے کے مطالبے میں شدت آنے لگی ، پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن پاکستان کے بعد فیڈریشن آف رجسٹرڈ سکولز پنجاب بھی تعلیمی ادارے کھلوانے کیلئے میدان میں آگئی۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اس حوالے سے فیڈریشن آف رجسٹرڈ سکولز پنجاب اور پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن پاکستان کے زیر اہتمام ایک قومی تعلیمی کانفرنس منعقد کی گئی جہاں اظہار خیال کرتے ہوئے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پرائیویٹ سکولز فورم شیخ محمد اکرم نے کہا کہ کورونا کے باعث نجی تعلیمی ادارے مالی بحران کا شکار ہیں، حکومت نجی تعلیمی اداروں کیلئے فوری امدادی پیکج کا اعلان کرے اور پرائیویٹ سکولز کو 11 جنوری سے کھولنے کی اجازت دی جائے کیوں کہ اڑھائی کروڑ بچے پہلے ہی سکولوں سے باہر ہیں ، آن لائن تدریس سے مزید بچوں کے سکول چھوڑ جانے کا خدشہ ہے ، اس صورتحال میں ضروری ہے کہ انٹر کلاسز کو معمول کے مطابق لگانے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیا تعلیمی سال یکم اگست کی بجائے یکم اپریل سے ہی شروع کیا جائے کیوں کہ تعلیمی سال آگے لے جانے سے تعلیمی اداروں میں نئے داخل ہونیوالے طالب علموں کا تعلیمی نقصان ہوگا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *