عمران حکومت بمقابلہ پی ڈی ایم : یہ سیاسی دنگل کون جیتے گا کون ہارے گا ؟ بڑی پیشگوئی کر دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) جنرل ضیاء کے ناگہانی انتقال کے بعد چوہے بلی کا کھیل شروع ہو گیا۔ محترمہ بینظیر اور میاں محمد نوازشریف باریاں لینے لگے۔ ایک اقتدار میں ہوتا تو دوسرا اس کو ہٹانے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگاتا۔ لانگ مارچ‘ ہڑتالیں‘ دھرنے‘ ہر حربہ آزمایا جاتا جو اکثر ناکام رہتا۔

بالفرض پٹتے بھی تو پٹانے والا کوئی اور ہوتا …؎یہ آئینہ میرا عکس ہے۔۔پس آئینہ کوئی اور ہے۔۔ نامور کالم نگار اور سابق بیوروکریٹ شوکت علی شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اب کے نیا جال پرانے ’’شکاری‘‘ عمران خان کی حکومت کے خلاف گیارہ پارٹیوں نے اتحاد کر لیا ہے۔ مقصد حکومت کو چلتا کرنا ہے۔ اگر پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تو اب کیسے ممکن ہوگا؟ خان خود 126 دن تک اسلام آباد کی دیواروں سے سر پٹختا رہا مگر گوہر مقصود ہاتھ نہ آیا۔ کیا یہ ’’احمقانہ‘‘ قدم ہے۔ سعی لاحاصل ہے یا There is Method in Madness حزب اختلاف کا استدلال ہے‘ لیکن اب کے سرگرانی اور ہے۔ حکومت کے پائوں اکھڑ چکے ہیں۔ مہنگائی‘بیروزگاری۔ ’’بیڈ گورننس‘‘ کا عفریت اپنے مہیب جبڑے کھولے کھڑا ہے۔ عوام کیلئے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو گیا ہے۔ ’’لانے والے بھی اب سوچ میں پڑ گئے ہیں۔ کوئی شخص ہو یا ادارہ۔ اپنا دشمن نہیں ہوتا۔ بیورو کریسی بوجوہ بددل ہو چکی ہے۔ کرکٹ میں تو انڈر 19 ٹیم چل جاتی ہے۔ حکومت سازی میں مشکل ہے۔ وغیرہ ان کا خیال ہے کہ مادہ پک چکا ہے۔ عوام بالآخر باہر نکل آئیں گے۔ عوام جب بھی تنگ آکر سڑکوں پر آتے ہیں تو ’’دما دم مست قلندر‘‘ ہو جاتاہے۔ بے کنٹرول کرونا حکومت کو صدر ٹرمپ کی طرح بے دست و پا کر دے گا۔حکومت اس کے برعکس مطمئن ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تحریکوں سے اگر پہلے حکومتیں نہیں گریں تو اب کیسے گرینگی؟ کچھ خیال یہ بھی ہے…؎تو چرا باشی بفکر مبتلا۔۔کارسازما بے فکر کارما۔۔غائبی امداد بھی تو آخر کچھ چیز ہے۔ ڈانواں ڈول معیشت سنبھل چکی ہے۔ ہر آنے والا دن معاشی نوید مسرت لائے گا۔بالآخر ہوگا کیا؟ ہمارے دوست ملک صاحب کہنے لگے ’’یہ اعصاب کی لڑائی ہے سیاست میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا۔کوئی چیز حتمی نہیں ہوتی۔ دونوں فریق جہاندیدہ اور گرم و سرد چشیدہ ہیں۔‘‘یہ گرگ آشتی ہے! تو پھر کون جیتے گا؟ہم نے پوچھا۔ بولے۔Whoever Blinks First

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.