سیاسی گہما گہمی عروج پر۔!! وہ حلقہ جہاں چاروں بڑی جماعتوں نے پُرانے کھلاڑی اُتارنے کا اعلان کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) گلگت بلتستان کے انتخابی حلقہ 12 شگر میں ملک کی چاروں بڑی جماعتوں کی جانب سے پرانے کھلاڑی کو میدان میں اتارنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ حلقہ شگر کا علاقہ جو ماضی میں ضلع سکردو کا حصہ تھا 2015 کے انتخابات کے بعد اس حلقے کو الگ ضلع کی حیثیت دی گئی جس کے بعد شگر رجسٹرڈ ووٹرز کے لحاظ سے گلگت بلتستان کا دوسرا سب سے چھوٹا ضلع بن گیا۔

جہاں 36 ہزار 183 رجسٹرڈ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 19 ہزار 520 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 16 ہزار 663 ہے ۔گلگت بلتستان کے انتخابات کیلئے حلقہ شگر کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کل 70 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 17 مردوں اور 17 خواتین کیلئے جبکہ 36 پولنگ سٹیشنز مخلوط ہیں ۔ تحریک انصاف کی جانب سے راجہ اعظم خان کو امیدوار نامزد کیا گیا ۔ راجہ اعظم خان پچھلی تین دہائیوں سے سیاست میں موجود ہیں اس حلقے سے 3 بار (1987،1992،2009) ممبر اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے حلقے کی اہمیت کو بھانپتے ہوئے اپنے پرانے کارکن عمران ندیم کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ۔

عمران ندیم اس سے قبل 1999، 2004 اور 2015 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے طاہر شگری کو ٹکٹ جاری کیا ہے جو 1999 سے سیاست میں موجود ہیں، پہلی بار 2015 کے انتخابی میدان میں اترے ،اس مرتبہ پہلی دفعہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔اسی طرح مسلم لیگ ق نے محمد حسن کو ٹکٹ جاری کیا ہے جو اس سے قبل مجلس وحدت المسلمین کے کارکن تھے ،پی ٹی آئی کی حمایت کے باعث پارٹی ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر انہوں نے مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کی اور اب ٹریکٹر کے نشان پر انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔ وہ بھی گلگت بلتستان کے انتخابات میں پہلی دفعہ حصہ لے رہے ہیں۔ اس حلقے کی اہم برادریوں میں راجہ ، وزیر ، کشمیری ،بلتی ، سادات ، خواجہ اور راٹھور شامل ہیں۔

حلقہ 12 شگر ضلع شگر کا واحد حلقہ ہے ۔ اس کے باوجود یہاں سے کسی خاتون امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے ۔ یہ حلقہ ضلع شگر کے اہم علاقوں چھورکاہ، گلاب پور، تسر، باشہ، داسو، برالدو، الچوڑی اور حیدر آباد پر مشتمل ہے ۔ اس ضلع کی کل آبادی 85 ہزار سے زائد ہے اور بیشتر کا ذریعہ معاش تجارت و کاشت کاری ہے ۔ ضلع شگر میں 66 سکولز و کالجز قائم ہیں اور یہاں کی شرح خواندگی تقریباً 46 فیصد ہے ۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی گاڈون آسٹن (کے ٹو) موجود ہے جسے ہر سال ملکی و غیر ملکی سیاح سر کرنے کیلئے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ شگر میں موجود فونگ کھر قلعہ بھی گلگت بلتستان کی مقبولیت میں اضافہ کرتا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *