بڑھتی مہنگائی نے شہریوں کی زندگی عذاب بنا دی ۔ ان دنوں ملک بھر میں کیا حالات ہیں ؟ آپ بھی جانیے

لاہور(ویب ڈیسک) سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اشیائے خوردو نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام کو غصہ دلا رہی ہیں جو ملکی سلامتی کے لئے اچھا ثابت نہیں ہو گا، اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے عوام کی قوت خرید ختم کر کے انکی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ لاکھوں

افراد فاقوں پر مجبور ہو چکے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے6 ماہ قبل گندم کی درآمد کی ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا جبکہ چوروں کے خلاف کاروائی بھی نہیں کی گئی جس سے انکا حوصلہ آسمان سے باتیں کرنے لگا جو عوام دشمنی ہے جس کے بعد فوڈ بیوروکریسی اور دیگر اداروں کے متعلقہ حکام کے خلاف کاروائی ضروری ہو گئی ہے۔میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ فروری کے مہینے میں بھی وزیر اعظم نے ہر قیمت پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کا وعدہ کیا تھا جس پر عمل نہیں ہو سکا۔حال ہی میں ایک وفاقی وزیر نے بھی قیمتوں میں کمی کرنے کے لئے اقدامات کا وعدہ کیا جس پر عمل درآمد نہ ہو سکا جس سے عوام کو یہ تاثر ملا ہے کہ حکومت کچھ کرنا نہیں چاہتی یا کرنے کی اہل ہی نہیں ہے جو ذخیرہ اندوزوں کے لئے اچھی خبر ہے۔حکومت کے اہم عہدیدار ایک طرف عوام کو بتا رہے ہیں کہ بین الاقوامی منڈی میں گندم چینی اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جبکہ دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ یہی اشیاء درآمد کر کے سستے داموں بغیر کسی سبسڈی کے عوام کو فراہم کی جائیں گی جو سمجھ سے بالا تر ہے۔انھوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے اپوزیشن، موسم، بارشوں، ٹڈی دل،منافع خوروں اور پیداوار کی کمی پر ملبہ ڈالا جا رہا ہے اور کبھی ٹائیگر فورس کی مدد سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے انتشار کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہورہا ہے۔عوام کو تسلیوں کی نہیں حقیقی ریلیف کی ضرورت ہے جس کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں جس نے حکومتی اہلکاروں کی اہلیت اور نیت کے بارے میں سوالات کھڑے کر دئیے ہیں جس کے تدارک کے لئے وزیر اعظم کو سخت اقدا مات اٹھانا ہونگے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.