ملکی معیشت کے لیے بُری خبر! پاکستان اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، سرمایہ کاروں کو 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان

کراچی(نیوز ڈیسک ) کاروباری ہفتے کا پہلا روز، کرونا وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ بہت بری طرح کریش کر گئی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں نئے کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کو بھی شدیدمندی کا رجحان برقرار رہا۔ کاروبارہ ہفتے کے آغاز پر ہی اسٹاک مارکیٹ دوبارہ سے کریش کر گئی۔ بتایا گیا ہے

کہ پیر کے روزشدید مندی کے نتیجے میں کے 100انڈیکس مزید775.82پوائنٹس کی کمی سے 39112.18پوائنٹس کی سطح پر آگیا ۔حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی گزشتہ ٹریڈنگ سیشن کی نسبت40.51فیصدکم رہا۔ اکستان اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ روز ٹریڈنگ کے آغازسے ہی منفی رجحان دیکھنے میں آیا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص فروخت کے دباو کے باعث مندی چھاگئی۔تقریباً 1 ہزار پوائنٹس کی کمی کی وجہ سے 100انڈیکس 39ہزار کی نفسیاتی حد سے نیچے گرتے ہوئے 38776 پوائنٹس کی نچلی سطح پرآ گیا۔بعد ازاں مارکیٹ میں ریکوری آئی اور انڈیکس کی 39ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے مارکیٹ سے سرمایہ نکالنے کو ترجیح دینے کے باعث74.24فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈکی گئی۔ مندی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے کا مجموعی حجم73کھرب99ارب62کروڑ91لاکھ روپے سے گھٹ کر 72کھرب 55ارب 5کروڑ 87لاکھ روپے ہوگیا۔ صرف آج کے دن سرمایہ کاروں کو 1 کھرب 44ارب57کروڑ4لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر لاک ڈان کے خطرے کی وجہ سے مارکیٹ دبا کا شکار ہے۔ کرونا وائرس کے کیسز بڑھنے، تیل کی قیمتیں کم ہونے اور ممکنہ طور پر امریکی انتخابات کے اثرات پر غیریقینی صورتحال کے باعث مارکیٹ کے مجموعی معاملات کمزور ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.