ہم نے بھارت کو بے نقاب کردیا ۔۔۔اب دنیا مودی سرکار کے خلاف کیا کارروائی کرنے والی ہے؟ عمران خان نے بڑی خوشخبری سنا دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کے ثبوت دنیا کو دے دیے، اب دنیا بھارت کی ریاستی دہشتگردی پر خاموش یا لاتعلق نہیں رہ سکتی، پاکستان میں بھارت دہشتگردی میں براہ راست ملوث ہے، بھارت دہشتگردوں کو مالی معاونت بھی کرتا ہے۔ انہوں نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ

ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کو فراہم کردیے ہیں۔ ان ٹھوس ثبوتوں کے بعد دنیا خاموش یا لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں بھارتی ریاست براہ راست ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کیلئے بھارت مالی معاونت بھی کرتا ہے۔واضح رہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بھارت کی جانب سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کو مالی معاونت کے ثبوت پیش کردیے اور اس حوالے سے ایک ڈوزیئر بھی جاری کردیا ہے۔اسلام آباد میں وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ روز لائن آف کنٹرول پر جو بزدلانہ کارروائی کی ہے میں اس کی مذمت کرتا ہوں جس میں ہمارے معصوم نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے آپ دیکھ رہے ہیں کچھ عرصے سے یہ ان کا طریقہ کار چلا رہا ہے کہ وہ مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، یہ سب سے اہم معاہدہ ہے جو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان طے ہوا تھا اور جس روانی سے یہ اس کی دھجیاں اڑا رہے ہیں وہ قوم کے سامنے ہے.انہوں نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے اصلی چہرے کو قوم اور عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کرنا ہے، یہ سفر جو آپ دیکھ رہے ہیں، جس کا آغاز سیکولرزم سے ہوتا ہے اور آج وہ ایک فاشنز کی شکل اختیار کر چکا ہے اور یہ اب دنیا پر عیاں ہو چکا ہے. شاہ محمودقریشی نے کہا کہ وہ ریاست جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتی تھی،

وہ اپنی حرکتوں، اپنی کارروائیوں سے ہماری اطلاعات کے مطابق ایک سرکش اور بدمعاش قوم کا روپ اختیار کرنے جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی مصدقہ اطلاعات اور شواہد ہیں کہ جس کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان ریاستی دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے، ہندوستان نے پاکستان عدم استحکام کا شکار کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے.وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ تشویش میرے لیے نئی نہیں ہے گاہے بگاہے مختلف سطح اور فورمز پر میں اس کا اظہار اور سفارتی ذرائع کو استعمال کرتا رہا ہوں لیکن وقت آ گیا ہے کہ اب قوم بالخصوص بین الاقوامی برادری کو اعتماد میں لیا جائے، میں سمجھتا ہوں کہ مزید خاموش رہنا پاکستان کے مفاد میں نہ ہو گا اور اس خطے کے امن اور استحکام کے مفاد میں بھی نہ ہو گا.انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں، ہمارے کامیاب آپریشنز ان کو ہندوستان ہضم نہیں کر پا رہا اور ان کا منصوبہ اب واضح ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد پاکستان ایک فرنٹ لائن اسٹیٹ بن جس کی ہم نے بہت بھاری قیمت بھی ادا کی، اس کا اعتراف کیا بھی جاتا ہے لیکن جتنا ہونا چاہیے اتنا نہیں ہوتا اس موقع پر انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران بذریعہ پراجیکٹر سلائیڈز کے ذریعے ایک گراف بھی دکھایا جس میں 2001 سے 2020 تک پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے اعدادوشمار بھی دکھائے گئے.انہوں نے کہا کہ اس دوران 19ہزار 130 دہشت گرد حملے پاکستانیوں نے برادشت کیے، 83 ہزار سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہوئے اور ان میں 32ہزار شہادتیں ہیں جس میں 23ہزار نہتے شہری، بچے اور خواتین ہیں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مالی نقصانات کا جائزہ لیا جائے تو ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کو 126 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا ہے اور جو معاشی مواقع گنوائے اس پر تو میں نظر دوڑا ہی نہیں رہا کیونکہ اس کو گننا آسان نہیں.انہوں نے کہاکہ جب پاکستان دنیا میں امن و استحکام کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا تھا تو بھارت پاکستان کے گرد ایک دہشت گرد نیٹ ورک کا جال مسلسل بن رہا تھا،

ہندوستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رہا تھا اور ناصرف اپنی سرزمین بلکہ گردونواح اور پڑوسی میں بھی جہاں ان کو جگہ ملی، انہوں نے فائدہ اٹھایا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش جاری رکھی.انہوں نے کہا کہ آج ہمارے پاس ناقابل تردید شواہد ہیں او وہ شواہد م قوم اور عالمی برادری کے سامنے اس ڈوزیئر کی شکل میں پیش کر رہا ہوں، اس ڈوزیئر میں بہت سی تفصیلات ہیں لیکن یہ تفصیلات مکمل نہیں ہیں، تفصیلات ہمارے پاس اور بھی ہیں اور بوقت ضرورت اسعمال کی جا سکتی ہیں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پچھلے تین چار ماہ سے دہشت گردی کو پھر ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کی پھر پشت پناہی کی جا رہی ہیں جس کی تازہ مثال وہ حالیہ حملے ہیں جو پشاور اور کوئٹہ میں ہوئے اور یہ ان کے بڑے منصوبے کی عکاسی کرتے ہیں.انہوں نے کہا کہ آج بھارت کی خفیہ ایجنسیز ان کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کر رہی ہیں جن کا محور پاکستان ہے مثلاً تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی، جمعیت الااحرار، یہ وہ تنظیمیں ہیں جنہیں پاکستان نے شکست دی اور آج ان میں پھر روح پھونکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کو اسلحہ، بارود اور آئی ای ڈیز سپلائی کیے جا رہے ہیں او ان کو اکسایا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں علما، اہم شخصیات او ر پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنائیں.انہوں نے کہا کہ یہ آپ کے علم میں ہو گا کہ اگست 2020 میں ہندوستان نے تحریک طالبان پاکستان، جمعیت الاحرار اور ایچ یو اے کو ایک جگہ جمع کیا اور آج وہ مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ایل ایف اور بی آر اے کے درمیان ایک مشترکہ اتحاد قائم کر کے یکجا کردیا جائے جو اسی بڑے منصوبے کا حصہ ہے.

انہوں نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق آئندہ آنے والے مہینوں نومبر دسمبر میں یہ پاکستان میں دہشت گردی کارروائیوں میں اضافے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ ان کی ایجنسیز اور سہولت کاروں کے درمیان کم از کم چار نشستیں ہو چکی ہیں جس میں یہ پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، پشاور اور دیگر پر حملوں مرکوز کرنے کی کوشش کریں گے.وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے پاس ناقابل تردید شواد موجود ہیں کہ را اور ڈی آئی اے جو انکی خفیہ ایجنسیز ہیں وہ پاکستان میں دہشت گردی کو مالی مدد فراہم کر رہی ہیں، دہشت گردوں کی تربیت کر رہی ہیں ، ان کو پناہ دیتے ہیں اور دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہیں جس کا مقصد ریاستی دہشت گردی اور عدم استحکام ہے. انہوں نے کہاکہ یہ ڈوزیئر اس بات کا انکشاف کرتا ہے کہ بھارت کے تین مقاصد کیا ہیں جن میں سے میں تین کا ذکر کرنا چاہوں گا، ان کا پہلا مقصد پاکستان کی امن کی جانب پیشرفت میں خلل ڈالنا ہے جس کے لیے گلگت بلتستان، سابقہ فاٹا اور بلوچستان کے علاقوں میں قومیت کو ہوا دی جاتی ہے.انہوں نے کہا کہ بھارت کا دوسرا مقصد ہے کہ پاکستان معاشی طور پر مستحکم نہ ہو سکے اور ہمارے ہاں خوشحالی کے راستے میں دیوا کھڑی جائے اور اس کی تازہ مثال ایف اے ٹی ایف اجلاس ہے جس میں دنیا پاکستان کے اقدامات کو سراہ رہی تھی لیکن ہندوستان وہ واحد ملک تھا جو پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی باقاعدہ کوشش کر رہا تھا اور وہ پاکستان کے خلاف لابی کررہے تھے انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے یہاں اس قسم کا انتشار اور افرا تفری پیدا کی جائے کہ یہاں ایک غیریقینی صورتحال پیدا ہو جس سے معاشی استحکام ممکن نہ ہو سکے.شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کا تیسرا مقصد سیاسی عدم استحکام ہے جس کے ذریعے وہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جس ڈوزیئر کی تفصیلات ڈی جی آئی ایس پی آر پیش کریں گے یہ چار چیزوں کا انکشاف کر رہا ہے جس میں پہلا یہ ہے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *