کراچی واقعہ! کورٹ آف انکوائری پیش ہوتے ہی نواز شریف میدان میں آگئے، بڑا اعلان

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کورٹ آف انکوائری کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں نواز شریف کا کہنا ہے کہ ’’ کراچی واقعے پر پیش کی جانے والی رپورٹ مجرمان کو جونیئرز کو بچانے کی کوشش ہے، یہ رپورٹ مسترد کرتا ہوں ‘‘۔

دوسری جانب سینئر صحافی حامد میر نے ٹوئٹر پر اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ ” عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے انسانوں کے ہاتھوں میں نہیں ،آئی جی سندھ کے ساتھ جو ہوا اس پر میں نے صرف ایک ٹوئٹ کی اور کچھ لوگوں نے مجھے غلط قرار دینے کے لئے تمام اخلاقی حدود عبور کر لیں آج وہ سب جھوٹے ثابت ہو گئے ان سب کے لئے میں ہدایت کی دعا کرتا ہوں”..

یاد رہے کہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور اس پرآئی جی سندھ کے تحفظات کی تحقیقات کے لئے آرمی چیف قمر جاو ید باجوہ کی ہدایت پر کی جانیوالی انکوائری مکمل کرلی گئی ہے جس کی روشنی میں پاکستان رینجرز اور آئی ایس آئی کے متعلقہ افسران کو ان کے موجودہ عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے ۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 18 اکتوبر کے کراچی واقعہ کے سلسلے میں تحقیقات مکمل کر دی گئی ہیں ،18/19 اکتوبر کی درمیانی رات پیش آنے والا واقعہ کی کورٹ آف انکوائری میں قرار دیا گیا ہے کہ پاکستان رینجرز (سندھ )اور آئی ایس آئی سیکٹر ہیڈ کوارٹر کراچی سے تعلق رکھنے والے متعلقہ افسران نے مزارقائد کی بے حرمتی کے پس منظر میں عوامی دبائو میں آ کر جذباتی طور پر کارروائی کی، ان پر عوامی دبائو تھا کہ قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے ۔

متعلقہ آئی ایس آئی اور رینجرز افسران نے تحمل و ذمہ داری کے بجائے ذاتی حیثیت میں جذبات میں آ کر اقدام اٹھایا ۔ان افسران کو ہوشیاری سے اس صورت حال نمٹنے کا کافی تجربہ تھا اور ناپسندیدہ صورت حال پیدا ہونے سے بچ سکتے تھے جو کہ دوریاستی اداروں کے درمیان غلط فہمی کا نتیجہ بنی ۔

کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ افسران کو ان کے موجودہ عہدوں سے ہٹایا جائے اور جی ایچ کیو میں مزید محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *