بھارت کے خلاف آپ کو ایسے بات نہیں کرنا چاہیے تھی کیونکہ ۔۔۔۔ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے خلاف (ن) لیگ کا ناقابل یقین رد عمل سامنے آگیا

لاہور (ویب ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آج جو باتیں ہوئیں، وہ پریس کانفرنس میں نہیں کی جاتیں، معذرت چاہتاہوں شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو باتیں پریس کانفرنس میں کیں ، وہ پریس کانفرنس میں کرنے والی نہیں ہیں،

میں وزیراعظم رہا ہوں اس طرح کی رپورٹس ہر وقت موجود رہتی ہیں، ان کی تشہیر نہیں بلکہ ان خطرات کو کاؤنٹر کیا جاتا ہے۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا کہ بھارت ہمارا دشمن ہے 73 برس سے دشمن ہے وہ ہم پر ہر جانب سے اٹیک کرےگا۔ ایسے سرعام آکر ان وارننگ کی تشہیر کرکے عوام میں پینک نہیں پھیلایا جاتا اسکا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ معذرت چاہتاہوں شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو باتیں پریس کانفرنس میں کیں ، وہ باتیں پریس کانفرنس میں کرنے والی نہیں ہیں،جب تشہیر شروع کردیں گے ، میں وزیراعظم رہا ہوں اس طرح کی رپورٹس ہر وقت موجود رہتی ہیں، کہ یہ خطرہ ہے یہ تھریٹ ہیں، ہمارے دور میں اس طرح کے خطرات کو کاؤنٹر کیا گیا، اپوزیشن کو بھی بلایا جاتا ہے، لیکن تشہیر نہیں کی جاتی۔انہوں نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ آپ کے پاس کیا آپشن ہے؟ ملک نہیں چل رہا ہے، لوگ تکلیف میں ہیں، آپ کو اس کا احساس نہیں ہے، عوام کو مشکل سے نکالنے کا حل مذاکرات میں ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ حکومت چل سکتی ہے تو مذاکرات نہ کریں۔یہ فریقوں کا ڈائیلاگ نہیں ہے، یہ ملک میں اقتدار میں حصے داروں کا ڈائیلاگ ہے، یہ حکومت کی تبدیلی کا ڈائیلاگ نہیں ہے، یہ نظام کی تبدیلی کا ڈائیلاگ ہے۔ یہ مذاکرات ایک دوسرے سے نہیں بلکہ عوام سے ہیں، ان کو بتانا ہے کہ ہم مسائل کے ذمہ دار ہیں ہم اس کا حل چاہتے ہیں۔ ملک کو ڈائیلاگ کی ضرورت ہے ڈائیلاگ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہوگا۔ جب ہم عوام کی رائے کا احترام نہیں کرتے ووٹ کو عزت نہیں دیتے الیکشن میں دھاندلی کرتے ہیں تو بات وہیں ختم ہوجاتی ہے۔ آج ملک میں پارلیمانی اور آئینی جمہوریت کو واپس لانا ہے مسائل صرف اس سے ہی حل ہونگے اگر یہ نہ کیا گیا تو جو مرضی کرلیں ملک میں حکومت نہیں چل سکتی۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان انتخابات میں جو کچھ کیا گیا ہے اور کیا جارہا ہے وہی کچھ ہے جو 2018 انتخابات میں کیا گیا اس سے کچھ سیکھا نہیں گیا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ حکومت آجتک کورونا کیخلاف کوئی اسٹریٹیجی نہیں بنا سکی بالکہ ہمارا وزیراعظم آجتک یہ نہیں کہہ سکا کہ پبلک میں ماسک پہننا لازمی ہے۔ وزیراعظم جلسے کرتا ہے تو کورونا نہیں ہوتا اپوزیشن جلسے کرے تو کورونا آجاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *