اچھا تو یہ بات تھی ۔۔۔ عمران خان نے راتوں رات پارلیمنٹ ، سینیٹ اور عوام سے چھپا کر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو رہا کیوں کروایا؟ بڑی گیم منظر عام پر

غذر (ویب ڈیسک) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان نے کلبھوشن یادیو کو این آر او دلوانے کے لیے راتوں رات آرڈیننس جاری کروائے۔ غذر میں انتخابی جلسے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ عمران خان پی ڈی ایم اتحاد کے بارے میں کہتے ہیں کہ

ہم مودی کا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں ۔وہ وزیراعظم جس نے خود دعا کی کہ مودی الیکشن جیت جائے ہم کشمیر کا مسئلہ حل کریں گے ، وہ آج یہ کہہ رہا ہے کہ اپوزیشن مودی کا بیانیہ لے کر چل رہی ہے۔ وہ شخص جو کشمیر کا سودا کر چکاہے، وہ آج ہمیں کہہ رہا کہ اپوزیشن کا بیانیہ مودی سے ملتا جلتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ شخص جو راتوں رات پارلیمنٹ اور سینیٹ سے چھپا کر ، عوام سے چھپا کر ، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو این آر او دلوانے کے لیے آرڈیننس جاری کروائے، وہ ہمیں بھارتی ایجنڈہ لے کر چلنے کا الزام دیتا ہے ۔بھارتی جاسوس پاکستان میں دہشت گردی کررہا تھا، جو پاکستان کی سرزمین سے پکڑا گیا اس کو وکیل کروانے کی اجازت دینے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ جانے والا ہم پر غداری کا الزام لگا رہا ہے ۔ بلاول بھٹو نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حدیث میں منافق کی جتنی نشانیاں بتائی گئی ہیں وہ سب ہمارے وزیراعظم میں پائی جاتی ہیں۔ غذر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا ہے حدیث میں ہمیں منافق کی چار نشانیاں بتائی گئی ہیں، ایک جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، دو جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، تین جب جھگڑا کرے تو گالی دے اور چار جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے۔اور اسلام کی بتائی ہوئی منافقت کی یہ چاروں نشانیاں ہمارے وزیراعظم میں پائی جاتی ہیں، ہمارا وزیراعظم منافق وزیراعظم ہے ۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں آئینی حقوق سب سے پہلے پیپلز پارٹی نے دیے ہیں، پیپلز پارٹی کی حکومت نے پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کو نام دیا ہے، اس سے پہلے گلگت بلتسان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا، ہم نے گلگت کو گورنر اور وزیراعلیٰ دیا ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری حکومت ہوتی تو سی پیک پر سب سے پہلا حق گلگت بلتستان کے عوام کا ہوتا ۔ ہماری حکومت نے گلگت کے عوام کے لیے سی پیک منصوبہ شروع کیا، قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے چین سے دوستی کی بنیاد رکھی تھی، ہم نے سی پیک کے ذریعے چین اور پاکستان کو مزید قریب کیا۔ سی پیک منصوبے کا مقصد ان علاقوں کی فلاح و بہبود تھا ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آج ہر کوئی سی پیک کا کریڈٹ لینا چاہ رہا ہے ، عمران خان نے کہا تھا کہ وہ سی پیک پر کام کریں گے، عوام نے دیکھ لیا دو سال میں انہوں نے کیا کام کیا۔ناکام اور نااہل لوگوں کو کیا پتہ کہ سی پیک کیا ہے؟ آپ کے پہاڑوں اور گوادر کے پانیوں کی وجہ سے سی پیک ایک گیم چینجر ہے ۔ گلگت بلتستان کا پہلے کسی کو خیال نہیں تھا، اب الیکشن شروع ہوتے ہی ان کو گلگت کی یاد آ گئی، پہلے دو دو وزیر گلگت میں گھوم رہے تھے ، اب وزیراعظم بھی گلگت پہنچ گئے ہیں ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.