اب دیکھیں گے ٹانگیں کس کی کانپتی ہیں اور پسینہ کسے آتا ہے۔۔۔!!!وزیراعظم عمران خان کا فوج کیخلاف بیان بازی کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانے کا فیصلہ

گلگت (ویب ڈیسک) پاکستان کو آج میر جعفر، میر صادق اور ایاز صادق جیسے لوگوں کا سامنا ہے، این آر او نہ ملنے پر یہ نام نہاد جمہوری پارٹیاں ملکی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔ گلگت بلتستان کے قومی دن کے موقع پرآزادی پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان

نے کہا کہ ہمارے کچھ سیاستدان جو خود کو جمہوری کہتے ہیں ہماری فوج کیخلاف بیان بازی کررہے ہیں، یہ لوگ 35 برس ملک لوٹتے رہے ہیں، اب ان سے حساب مانگا جا رہا ہے تو یہ ہمارے خلاف اور فوج کیخلاف باتیں کرنا شروع ہو گئے ہیں ۔حکومت جب ان سے بلیک میل نہیں ہوئی تو انہوں نے پاک فوج کے سربراہ اور آئی ایس آئی کے چیف کیخلاف پروپیگنڈہ کرنا شروع کردیا۔ مسلمانوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیالیکن نقصان ہمیشہ ان کو میر جعفر اور میر صادق نے پہنچایا ہے اور آج ہمیں بھی ان میر جعفر، میر صادق اور میر ایاز صادق کا سامنا ہے۔یہ ملک کو بدنام کر رہے ہیں ، ابھی نندن کی رہائی کے فیصلے پر دنیا بھر کے سربراہان مملکت نے مبارک باد دی اور پاکستان کی بہادری کو سراہا گیا جبکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے ڈر کر یہ کام کیا، ان لوگوں کا ایک ہی مقصد ہے این آر او، جو میں نے انہیں کسی صورت نہیں دینا ہے۔ ان طاقتور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لاؤں گا ۔ یہ دیکھیں گے کہ اب کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں اور کس کو پسینہ آتا ہے ۔تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ نریندر مودی کا مقصد پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے،بھارت نے پلان کیا ہوا تھا کہ پاکستان میں شیعہ سنی فسادات پھیلائے جائیں اور بڑے مذہبی لیڈروں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا ۔ میں شکریہ ادا کرتا ہوں اپنی ایجنسیز کا جنہوں نے نہایت خوش اسلوبی سے اس انتشار کو پھیلنے سے روکا۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ فوج کسی بھی ملک کے لیے انتہائی ضروری ہے، ایک مضبوط فوج ایک مضبوط ملک کی علامت ہے، اسلامی ممالک کا حال آپ کے سامنے ہے، ہمیں اپنی پاک فوج پر فخر ہونا چاہیے۔گلگت کے یوم آزادی کے موقع پر وزیراعطم عمران خان نےگلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ الگ صوبہ گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ تھا، عوامی مطالبے کے پیش نظر گلگت کو الگ صوبہ بنائیں گے، الیکشن کی وجہ سے ابھی گلگت پیکج پر بات نہیں کرسکتا، جلد گلگت کے عوام کو خوشخبری ملے گی اس موقع پر وزیراعظم نے گلگت کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا بھی اعلان کیا ۔انہوں نے کہا کہ جب تک وزیراعظم رہوں گا یکم نومبر گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ گزارا کروں گا۔ میں پہلی مرتبہ 15 برس کی عمر میں گلگت بلتستان آیا تھا اس وقت قراقرم ہائی وے بن رہی تھی۔ گلگت بلتستان کے عوام کو بھی دوسرے صوبوں کی طرح مکمل آزادی ہوگی۔ ہمارا مقصد ملک سے مہنگائی کو ختم کرنا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.