واقعی حتمی فیصلہ کرچکے ہیں

میں اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہوں کیونکہ ۔۔۔ موجودہ زمانے میں چھوٹی عمر کے جوڑوں کے درمیان باہمی اختلافات پر مبنی رواداد
’’میں اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہوں‘‘۔۔۔مقبول صاحب نے پہلی بار یہ بات مجھ سے کی تو میں چونک اٹھا۔مجھے اندازہ نہیں تھا کہ حالات اِس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔لیکن اُن کے لہجے سے صاف اندازہ ہورہا تھا کہ وہ واقعی حتمی فیصلہ کرچکے ہیں۔میں کسی کے

گھریلو معاملات میں دخل اندازی کے خلاف ہوں لیکن چونکہ بات خود انہوں نےشروع کی تھی اس لیے میں نے نہایت محتاط انداز میں پوچھا کہ وجہ کیا ہے؟۔ انہوں نے ایک نہیں کئی وجوہات گنوا دیں۔مثلاًیہ کہ جب میں دفتر سے تھکا ہارا گھر آتا ہوں تو وہ مجھ سے کہتی ہے کہ ہمیں کہیں باہر گھمانے لے کر جائیں۔ انکار کرو ں تو منہ بنا کر بیٹھ جاتی ہے۔ بچوں کو بلاوجہ ڈانٹتی رہتی ہے۔میں گھر کے لیے فروٹ بھی خود سے خرید کرلاؤں تو اُس میں سے سو سو نقص نکالتی ہے۔کھانا انتہائی بدمزہ بناتی ہے۔گھر میں ہر وقت ایک لڑائی کی کیفیت طاری کیے رہتی ہے۔حالانکہ بیڈ روم میں ہر وقت اے سی چلتا رہتا پھر بھی اُس کا چڑچڑا پن ختم ہونے کو نہیں آتا۔‘‘ میں نے گہری سانس لی۔ ’’وجوہات تو واقعی بڑی ٹھوس ہیں‘یہ بتائیے کہ ایسے معاملات کو دیکھ کر یقیناًآپ کو غصہ آتا ہوگا؟‘‘۔وہ تلملائے’’ظاہری بات ہے، میں اتنی گرمی اور حبس میں گھر آتا ہوں تو سکون نام کی کوئی چیز نہیں ملتی‘ زچ ہو کر کئی دفعہ کھانا کھائے بغیر باہر نکل جاتاہوں‘‘۔میں سیدھا ہوا’’اوہو! پھر تو آپ بھوکے رہ جاتے ہوں گے؟‘‘۔ انہوں نے پیر پھیلائے’ ’نہیں! باہر کسی ہوٹل سے کھالیتا ہوں یا کسی دوست کے پاس چلا جاتا ہوں۔‘‘میں نے سرہلایا’’ظاہری بات ہے بندے نے بھوکا تو نہیں مرنا ‘ یہ فرمائیے کہ جب آپ اپنی اہلیہ سے لڑتے ہیں اور کھانا کھائے بغیر چلے جاتے ہیں تو وہ کہاں سے کھانا کھاتی ہیں؟‘‘۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *