امریکی سفارت خانے نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک جاری پیغام میں کہا

امریکی سفارت خانے نے وزیراعظم عمران خان کے بارے میں ٹوئٹ پر معذرت کرلی , سفات خانے کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ بغیر اجازت کے استعمال ہوا امریکی سفارت خانہ سیاسی پیغامات کو ری ٹوئٹ یا ان کی پوسٹنگ اور حمایت نہیں کرتا . سفارت خانے کا اعلامیہ

اسلام آباد(انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 نومبر ۔2020ء) پاکستان میں امریکی سفارت خانے سے سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے راہنما احسان اقبال کی جانب سے وزیراعظم عمران خان سے متعلق کی جانے والی ”غیر مجاز“ ٹوئٹ کو شیئر کرنے پر معذرت کرلی جس کے باعث سوشل میڈیا پر تناز-ع کھڑا ہوگیا تھا. امریکی سفارت خانے نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک جاری پیغام میں کہا کہ گزشتہ رات سفات خانے کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ بغیر اجازت کے استعمال ہوا امریکی سفارت خانہ سیاسی پیغامات کو ری ٹوئٹ یا ان کی پوسٹنگ اور حمایت نہیں کرتا ہم غیر مجاز پوسٹ کی وجہ سے پیدا ہونے والی الجھن پر معذرت خواہ ہیں.خیال رہے کہ امریکی سفارت خانے کی جانب سے یہ معذرت سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے شدید رد عمل کے بعد کی گئی ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کے راہنما احسن اقبال کی جانب سے واشنگٹن پوسٹ کے ایک آرٹیکل کا سکرین شاٹ ٹوئٹ کیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ ٹرمپ کی شکست دنیا بھر کے آمروں کے لیے ایک دھچکا ہے. یاد رہے کہ احسن اقبال نے بظاہر وزیراعظم عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ آرٹیکل ٹوئٹ کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ہمارے پاس پاکستان میں بھی ایک فرد ہے، اور ہم اسے بھی جلد جاتے ہوئے دیکھیں گے.

بعد ازاں احسن اقبال کا ٹوئٹ امریکی سفارت خانے کی جانب سے ری ٹوئٹ کردیا گیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر حکومتی عہدیداروں، جن میں وفاقی وزرا اور گورنر سندھ شامل ہیں، کا شدید رد عمل آیا جنہوں نے امریکی سفارت خانے سے سفارتی اصولوں کا احترام کرنے اور فوری معذرت جاری کرنے کا مطالبہ کیا. امریکی سفارت خانے کی جانب سے ٹوئٹ کیے جانے کے بعد 11 نومبر کو ٹوئٹر پر #ApologiseUSembassy کا ٹرینڈ بھی ٹاپ پر آگیا، جس کے ذریعے لوگوں نے امریکی سفاتخانے سے معذرت کرنے کا مطالبہ کیا.انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بھی ٹوئٹ کیا، جس میں انہوں نے امریکی سفارتخانے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ اب بھی امریکی سفارتخانہ ڈونلڈ ٹرمپ کےانداز میں کام کرتے ہوئے مفرور کی حمایت کرکے پاکستان کی اندرونی سیاست میں مداخلت کر رہا ہے‘انہوں نے لکھا کہ امریکی سفارتخانے کو سفارتی اصولوں کو یاد رکھنا چاہیے اور واضح کرے کہ احسن اقبال کی ٹوئٹ جعلی یا نہیں اور اگر اصلی ہے تو معافی مانگی جائے.گورنر سندھ عمران اسماعیل نے وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی سفارتخانے کے خلاف ایکشن لے گورنر سندھ نے اپنی ٹوئٹ میں امریکی سفارتخانے کی ٹوئٹ کو مضحکہ خیز اور سفارتی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی سفارتخانہ منتخب وزیر اعظم کےخلاف ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرے؟ ساتھ ہی انہوں نے سفارتخانے سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا.وزیر اعلیٰ پنجاب کے ڈیجیٹل میڈیا کے فوکل پرسن اظہر مشوانی نے اپنی ٹوئٹ میں امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کو مینشن کرتے ہوئے سوال کیا کہ اسلام آباد سفارتخانے نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ڈکٹیٹر قرار دیا ہے، اب وہ اگلے ڈھائی ماہ تک کیسے کام کریں گے؟وزیر اعظم کے ڈیجیٹل میڈیا فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد نے بھی امریکی سفارتخانے کی ٹوئٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اس طرح کے پلیٹ فارمز انتہائی حساس ڈیجیٹل اثاثے ہوتے ہیں، انہیں اس طرح عوامی سطح پر غلط استعمال نہیں کیا جانا چاہیے.

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *