بات چیت کا وقت آگیا

اپوزیشن کے بیانیے پر اسٹیبلشمنٹ پریشان ، بات چیت کا وقت آگیا
ایک سیاسی جماعت کی طرف سے اپنے اداروں کے خلاف ’ففتھ جنریشن وار‘ شروع کی جاتی ہے جس کا مقصد یہ ہو کہ عوام اور اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کی جائیں جس سے وہ ادارے بھی کمزور ہیں اسی بناء پر اسٹیبلشمنٹ کو پریشانی لاحق ہے ، سابق سفارتکار ظفرہلالی کا تجزیہ

اسلام آباد ( 14 نومبر 2020ء) سابق سفارتکار اور تجزیہ کار ظفر ہلالی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پر مشتمل اپوزیشن جماعتوں کے بیانیے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ پریشان ہے کیوں کہ یہ ایک انتہائی خطرناک کھیل ہے ، اگر اپوزیشن اتحاد کا ایجنڈہ یہی ہے کہ ریاست کو کمزور کیا جائے تو پھر بات چیت کا وقت آگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ایک سیاسی جماعت کی طرف سے اپنے اداروں کے خلاف ففتھ جنریشن کی جنگ شروع کی جاتی ہے جس کا مقصد یہ ہو کہ عوام اور اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کی جائیں جس سے وہ ادارے بھی کمزور ہیں ، اسی بناء پر اسٹیبلشمنٹ کو پریشانی لاحق ہے کیوں کہ ایسا عمل ناقابل برداشت ہے۔سابق سفارتکار اور سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا کا بیانیہ بہت خطرناک ہے اس لیے یہ بلکل بھی نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ اس سے نقصان ہوگا کیوں کہ یہ ایک انتہائی خطرناک کھیل ہے ، اسی لیے تو اسٹیبلشمنٹ پریشان ہے اور وہ سوچ رہے ہیں کہ یہ معاملہ کہاں تک جائے گا ، اگر اپوزیشن اتحاد کا ایجنڈہ یہی ہے کہ ریاست کو کمزور کیا جائے تو پھر بات چیت کا وقت آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس لیے اب ضروری ہے کہ انہیں اپروچ کرکے بات چیت کی جانی چاہیئے کیوں کہ اگر اپوزیشن کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن جو لوگ اس ملک کے رہنے والے ہیں انہیں تو اس سے فرق پڑتا ہے۔ تجزیہ کار ظفر ہلالی نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے تو آرمی چیف کی طرف سے کروائی گئی انکوائری کی تعریف کی مگر مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے بہت کھلے الفاظ میں اسے مسترد کردیا اور اسے جھوٹ پر مبنی قرار دے دیا اور کہا کہ اصل لوگوں کو نہیں پکڑا گیا ، جو یقینی طور پر ایک تشویشناک صورتحال ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *