وزیراعظم کے ریاستِ مدینہ کے خواب کو پورا کرنے کے لئے پاکستان بیت المال کیا خدمات سرانجام دے رہا ہے؟شاندار تفصیلات

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کے ریاست مدینہ کےخواب کو عملی شکل دینے کے لئے پاکستان بیت المال یتیم بچوں کےلئےدارالاحساس، چائلڈ لیبر کے خاتمے کے مراکز اور وومن ایمپاورمنٹ سینٹرزسمیت معاشرے کے غریب افراد کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔

پاکستان بیت المال کی جانب سے یتیم بچوں کے لئے دارالاحساس کا قیام اسلامی فلاحی ریاست کی جانب ایک اور قدم ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق ملک بھر کےہر دارالاحساس مرکز میں4سے6سال تک کی عمر کے100بچےرہائش پذیر ہیں۔دارالاحساس میں رہائش پذیر بچوں کو ایک فیملی یونٹ میں مفت فرنشڈ رہائش،مفت متوازن غذاجس میں ناشتہ،دوپہراوررات کا کھانا،شہرکےبہترین سکولوں میں میٹرک اور اس سےآگےکی تعلیم،مفت یونیفارم، کتب اورسٹیشنری،موسم سرما اور موسم گرما کا لباس، سرکاری ہسپتالوں میں طبیسہولت،سکلز ڈویلپمنٹ، مفت لانڈری خدمات، نماز کی سہولت اور دینی تعلیمکی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تشدد اور بدسلوکی کے شکار بچوں کو مشاورت اور قانونی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ گزشتہ مالی سال 2019-20ءکے دوران ملک بھر میں 1730 نئے یتیم بچو ں کو دارالاحساس میںرجسٹر کیا گیا جہاں انہیں گھر جیسے ماحول میں صاف ستھرا کھانا اور بہترین تعلیم و تربیت کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان بیت المال میں انفرادی مالی معاونت(آئی ایف اے)پروگرام کےتحت غریب، بیوہ خواتین، بے سہاراخواتین، یتیم اور معذور افراد کی عمومی امداد، تعلیم، طبی علاج اور بحالی کے ذریعے مدد فراہم کی جا رہی ہے۔اس منصوبےکامقصدغریب افراد کی فوری مدد کرنا،غریب مریضوں کو معذوری یا کسی بڑے بیماری کے لئے طبی امداد کی فراہمی،غریب افراد کو معاشی طور پر بااختیار بنانا،سرکاری شعبہ کےتعلیمی اور تکنیکی ادارے میں زیر تعلیم مستحق اور ذہین غریب طلباءکوتعلیمی وظائف کی فراہمی ہے۔

گزشتہ مالی سال کے دوران 21618 غریب مریضوں کے مفت علاج کو ممکن بنایا گیا جس پر 2727 ملین روپے خرچ ہوئے جبکہ 36.28ملین روپے کی رقم سے 18141 مستحق مریضوں کی آنکھوں کے موتیے کی سرجری ممکن بنائی گئی۔غریب اور نادار مگرہونہار طالب علموں کو تعلیمی سفر پررواں دواں رکھنے کے لئے گزشتہ مالی سال کے دوران 155 ملین روپے کی رقم خرچ کی گئی جس سے 5683 طالب علم مستفید ہوئے۔ اب تک 51 بچوں کو ”کوکلئیرامپلانٹ“مہیاکرتے ہوئے بولنے اور سننے کے قابل بنایا گیا ہے جس پر46.22 ملین روپے صرف ہوئے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نےچائلڈ لیبر کے خاتمہ کے پروگرام کے ذریعے 1996ءمیں ایک سروے کیا جس میں پاکستان میں پانچ سے 14 سال تک کی عمر کے 3.3 ملین بچوں کی نشاندہی کی گئی جن سے جبری مشقت لی جا رہی تھی،چائلڈ لیبر جیسے مسائل میں ریاست کی مداخلت ضروری ہو گئی تھی۔ چائلڈ لیبر سے متعلق قومی پالیسی اور ایکشن پلان آف چائلڈ لیبر میں بچوں سے مشقت کے فوری خاتمہ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ چائلڈ لیبر کا شکار بچوں کی بحالی کے لئے پاکستان بیت المال سکول1995ءسے ملک بھر میں قائم ہیں۔ان مراکز میں5سے14 سال تک کی عمر کےبچوں کو داخل کیا جاتا ہے جہاں انہیں مفت تعلیم، لباس، جوتے اور وظائف مہیاءکئےجاتےہیں۔ملک بھر میں پاکستان بیت المال کے زیر انتظام 159چائلڈ لیبر کے خاتمے کے مراکز قائم ہیں جن میں سے پنجاب میں 73، سندھ میں37، خیبر پختونخوا میں 24، بلوچستان میں 14، اسلام آباد/آزاد کشمیر اورشمالی علاقہ جات میں 11مراکز ہیں۔ بچوں کو چائلڈ لیبر سےنجات دلاتےہوئے پرائمری سطح تک مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ اس وقت 17871 طلبہ انمراکز میں پرائمری تعلیم سے مستفید ہو رہے ہیں۔ سال 2019-20ءکے دوران انسکولوں میں 18519 بچے رجسٹر کئے گئے جبکہ اب تک 38059 بچے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔گزشتہ مالی سال کے دوران اس منصوبے پر 712ملین روپے خرچ کئےگئے۔ پاکستان بیت المال کے زیر انتظام ملک بھر میں 155 ویمن ایمپاورمنٹ سنٹر خواتین کو خود انحصاری کے سفر پر گامزن کرنے میں مصروف عمل ہیں۔پاکستان بیت المال کے وومن ایمپاورمنٹ سینٹرز 1995ءسےآزاد کشمیر اورشمالی علاقہ جات سمیت ملک بھر میں قائم ہیں۔ ان سکولوں میں بیواؤں،یتیموں، غریب لڑکیوں کو ڈرافٹنگ، کٹنگ، سلائی، کڑھائی، ہاتھ اور مشین سےایمبرائیڈری سمیت مختلف مہارتوں میں مفت تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

پاکستان بیت المال نے ہر ضلع میں ایک ووکیشنل دستکاری سکول کے قیام کا منصوبہ بنایا ہے۔اس وقت ان سکولوں کی تعداد 155 ہےجن میں سے پنجاب میں 64،سندھ میں 30، خیبر پختونخوا میں 33، بلوچستان میں 18، اسلام آباد، آزادکشمیر اور شمالی علاقہ جات میں 11 سکول شامل ہیں۔ کم آمدن والے طبقات سےتعلق رکھنے والی خواتین اور لڑکیوں کو دو شفٹوں میں تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

مالی سال 2019-20ءکے دوران 638 ملین روپے کی رقم سے 30 ہزار خواتین کو پیشہ وارانہ تربیت فراہم کی گئی۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والی خواتین کو پاکستان تخفیف غربت فنڈ کے تعاون سے ایک لاکھ روپے تک بلاسودقرضے دیئے جائیں گے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکیں۔اس وقت13322خواتین زیر تربیت ہیں جبکہ اب تک 135220 خواتین تربیت مکمل کر چکی ہیں۔اس منصوبےکےتحت اگلے چار سالوں کےدوران 62400 خواتین کوباعزت اورباوقارزندگی گزارنے کے لئے خود انحصار اور خود کفیل بنا دیا جائےگا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.