پاکستانی تاجر برادری کیلئے زبردست خوشخبری۔!! بڑے اسلامی ملک نے مارکیٹس کے دروازے کھول دیے

لاہور (ویب ڈیسک) ایرک بیشم بیف نے کہا ہے کہ پاکستانی صنعتکار اپنا سامان کرغزستان کی منڈیوں سے یورپ اور دیگر مغربی ممالک برآمد کرسکتے ہیں۔ آواری ہوٹل لاہور میں لاہور سنٹر فار پیس ریسرچ کے زیر اہتمام ‘پاک کرغیز تعلقات کا مستقبل، شراکت برائے تجارت ، تجارت اور سیاحت’ کے عنوان سے بلائی جانے والی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

ایریک بیشیم بیف نے کہا کہ انکا ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریہ کرغزستان میں سرمایہ کاری کے آسان اور منافع بخش مواقع موجود ہیں۔ کرغزستان اپنی اعلی معیار کی ماحول دوست زرعی مصنوعات ، نامیاتی سبزیاں اور پھل، گوشت، دودھ کی مصنوعات اور شہد پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی سالوں سے۔

کرغزستان کامیابی کے ساتھ یورپ اور عرب ممالک میں کرغیز شہد برآمد کررہا ہے۔ کرغیز سفیر نے کہا کہ کرغزستان دونوں ممالک کے مابین زیادہ سے زیادہ معاشی تعلقات اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون پر مبنی ویزا سروس تشکیل دینے کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرغزستان توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے پاکستان سے تعاون میں دلچسپی رکھتا ہے اور وسطی ایشیا ، جنوبی ایشیاء کے عظیم توانائی منصوبے CASA-1000 پر عمل درآمد کا خواہاں ہے۔ ایرک بیشمبیوف نے سی پیک کے ایک حصے کے طور پر پاکستان ، چین ، کرغزستان اور قازقستان کے مابین نقل و حمل سے متعلق کثیر جہتی معاہدے کے لئے پاکستان اور کرغیزستان کے اندر ٹرانسپورٹ معادہوں کی تجدید پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ معاہدوں سے دونوں ممالک مزید قریب آئیں گے۔

کرغزستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے مابین دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعاون کم ہے، دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم 4 ارب ڈالر ہے اور پاکستان کی کارغیستان میں سرمایہ کاری تقریبا ساڑھے تین ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے مابین معاشی تعاون کے لئے ترجیحی شعبوں میں دواسازی، بجلی کی پیداوار اور فراہمی ، کان کنی ، خوراک ، ٹیکسٹائل اور آئی ٹی کی صنعت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کے رابطوں کو تیز کرنے اور دونوں ثقافتوں کے بارے میں مزید معلومات پھیلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے مابین براہ راست ہوائی اور سڑک کے ذریعے نقل و حمل کا فقدان بھی دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

پاکستان کے سابق سفیر، خارجہ سیکرٹری اور چئیرمین لاہور سنٹر فار پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ شمشاد احمد خان نے کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان نہ صرف تاریخی اورخوشگوار تعلقات ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان انیس سو اکانوے سے بارہا اعلی سطح کے وفود کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ تجارت کا حجم دونوں ممالک اور وسط ایشیاء کے پورے خطے کی زبردست تجارتی صلاحیت کے برابر نہیں ہے۔ ابھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم صرف چار ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کے سابق سکریٹری خارجہ نے کہا کہ پاک کرغزستان تعلقات کے آغاز سے ہی دونوں ممالک نے 35 سے زیادہ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں ، لیکن عملی طور پر دونوں فریقین ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتے ہیں۔ شمشاد خان نے کہا کہ تجارتی اور معاشی تعلقات ایک ایسا شعبہ ہے جس پر دونوں ممالک کو توجہ دی جانی چاہئے اور مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔

لاہور سینٹر فار پیس ریسرچ کے چیئرمین نے کہا کہ کئی دیگر بین الاقوامی تعاون کی تنظیموں کے علاوہ کرغزستان اور پاکستان اقتصادی تعاون کی تنظیم اور شنگھائی تعاون تنظیم میں شراکت دار ہیں۔ دونوں ممالک میں مل کر کام کرنے اور ترقی اور خوشحالی کا مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی زبردست صلاحیت ہے۔ گول میز کانفرنس کے کنوینر ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایل سی پی آر نذیر حسین نے شرکا کو آگاہ کیا کہ لاہور سینٹر فار پیس ریسرچ اس ماہ کے آخر میں ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک منصوبے کے اجراء کے سلسلے میں بشکیک میں ایک کانفرنس منعقد کر رہا ہے۔ کانفرنس کا مقصد علاقائی روابط کو مضبوط اور مستحکم کرنا ہے۔ شمشاد احمد خان نے کہا کہ یہ اقدام ہمیں پورے وسطی ایشیاء تک پہنچنے کے مواقع فراہم کرے گا۔

بعد ازاں کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے ٹیوٹا کے چئیرمین علی سلمان صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے پاس بہت ہی قابل ہنر مند افرادی قوت ہے جو دوطرفہ تجارت اور معاشی تعاون میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار حکومت پاکستان کے مشیر ڈاکٹر حسنین جاوید نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین سیاحت سے باہمی فائدہ ہوگا۔ جنرل منیجر آپریشنز ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب عاصم رضا نے گول میز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان دونوں میں سیاحت کی بہت بڑی صلاحیت ہے اور باہمی معاشی تعلقات کو بڑھانے کی کوشش کے طور پر دونوں ممالک کے مابین سیاحت کے مواقع کو کھولنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ لاہور کے آرچ بشپ فرانسس شا نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پاکستانی حکومت مذہبی سیاحت کو فروغ دے رہی ہے ، پاکستان اور کرغزستان دونوں کو اس شعبے میں توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین طلبہ کے تبادلہ پروگراموں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ کانفرنس میں سرکاری و نجی تنظیموں کے نمائندوں ، خواتین چیمبرز، پاکستان یوتھ کونسل اور میڈیا سمیت مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.