وہ فیصلہ جس کے بعد سعودی عرب نے عین وقت پر پاکستان کا ساتھ چھوڑ دیا

یہ اچھی خبر ہے کہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت نیچے آ رہی ہے لیکن فکر کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے لیے گئے قرضوں کی واپسی کا وقت بھی آگیا ہے۔ ان میں سعودی عرب سے لیا گیا 6 ارب ڈالر کا پیکج، متحدہ عرب امارت سے 2 ارب ڈالر اور چین سے لیا گیا 3 ارب ڈالر قرض شامل ہے۔ یہ رقم خرچ کرنے کی مد میں نہیں لی گئی تھی بلکہ

اسٹیٹ بینک ذخائر بڑھانے کے لیے استعمال کی گئی۔ چین سے لیا گیا 3 ارب ڈالر قرض اگلے سال مئی میں واجب الادا ہے۔ 2014ء میں اس قرض کا 3 سالہ معاہدہ ہوا تھا اور ایک ارب 50 کروڑ ڈالر قرض لیا گیا تھا۔ 2018ء میں معاہدے کو 2 سال کی توسیع دی گئی اور رقم بڑھوا کر 3 ارب ڈالر کرلی گئی۔ ماضی کے تعلقات کے پیش نظر چین سے معاملات طے پاسکتے ہیں لیکن اصل مسئلہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا ہے۔ دسمبر 2020ء اور جنوری2021ء میں سعودی عرب سے لیے گئے قرض کی ادائیگی کرنی ہے۔ اس قرض میں 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں رکھوائے گئے اور 3 ارب ڈالر کا تیل ادھار لیا گیا جس پر شرح سود تقریباً 3 فیصد سے زائد تھی۔ عندیہ یہ دیا گیا تھا کہ ایک سال کے بعد اس معاہدے کو مزید توسیع دی جائے گی لیکن مبیّنہ طور پر پاک ترک تعلقات میں بہتری، کشمیر پر پاکستان کے مؤقف اور چین کی طرف جھکاؤ نے اس معاہدے کو ایک سال سے زیادہ چلنے نہیں دیا اور اگست 2020ء میں سعودی عرب نے یہ معاہدہ ختم کردیا۔ بات صرف یہاں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ سعودی عرب نے پاکستان کے مشکل حالات میں ایک ارب ڈالر بھی واپس مانگ لیے۔ حکومتِ پاکستان کی درخواست کے باوجود بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا، اور یوں پاکستان کو یہ ادائیگی کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر

چین سے مدد مانگنی پڑگئی۔ چین نے ایک ارب ڈالر پاکستان کو دیے اور پاکستان نے سعودی عرب کو ادائیگی کردی۔ اگرچہ اس حکمتِ عملی کی بدولت ڈالر کے ذخائر پر کوئی فرق نہیں پڑا لیکن ایک حقیقت آشکار ہوگئی کہ سعودی عرب پاکستان کو کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ سعودی عرب نے جب پاکستان کو رعایت نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا تو اس وقت امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کے ساتھ رویہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اس کا سب سے زیادہ معاشی فائدہ سعودی عرب کو ہوا ہے۔ ٹرمپ نے یورپی ممالک کی شدید مخالفت کے باوجود بھی ایران پر پابندیاں لگائی تھیں۔ براک اوباما نے ایران کی ساتھ جو معاہدے کیے تھے انہوں نے ایران کی معاشی حالت کو بہتر کرنے میں بہت کردار ادا کیا تھا۔ ایرانی تیل قانونی طور پر بک رہا تھا اور سعودی عرب کو نہ چاہتے ہوئے بھی تیل کی قیمتیں کم کرنا پڑی تھیں، اور یوں سعودی معیشت مشکلات میں گھر گئی تھی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جو بائیڈن کی حکومت میں اوباما دور کی جھلک دکھائی دے سکتی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے ساتھ معاشی تعلقات اسی پوزیشن پر جا سکتے ہیں جو اوباما انتظامیہ کے دور میں تھے۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ اوباما انتظامیہ کے اختتامی دور میں

ایسی خبریں شائع کی گئیں تھیں جن میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہرایا جا رہا تھا۔ لیکن ٹرمپ کے آنے کے بعد یہ معاملہ دب گیا۔ جو بائیڈن کی حکومت اس حوالے سے سعودی عرب کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یاد رہے کہ جو بائیڈن براک اوباما کے دور میں نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ایسے حالات میں سعودی عرب کو خطے میں اپنی طاقت برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی حمایت کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ پاکستان سعودی عرب سے 2 ارب ڈالرز کے قرض کی مدت بڑھانے پر بات کرسکتا ہے۔ یہی پالیسی متحدہ عرب امارات کے معاملے میں بھی استعمال کرکے مزید 2 ارب ڈالر کی مدت بڑھوائی جاسکتی ہے۔ متحدہ عرب امارت کے 2 ارب ڈالر کی ادائیگی اگلے سال جنوری اور فروری میں کرنی ہے۔ ماہرین کے مطابق چونکہ متحدہ عرب امارات کی حکومت بھی امریکا کے زیرِ اثر رہتی ہے لہٰذا موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھا کر 4 ارب ڈالر کی ادائیگی کو کم از کم ایک سال کے لیے روکا جا سکتا ہے۔ پاکستانی حکومت بہترین سفارتکاری کے جو دعوے کرتی ہے اب ان دعوؤں کو درست ثابت کرنے کا وقت ہے۔ یہ شک ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان قرضوں کی مدت بڑھوانے پر آئی ایم ایف کو اعتراض ہوسکتا ہے، لیکن اس کے امکان کم ہیں کیونکہ آئی ایم ایف سے معاہدے میں

ان قرضوں کی مدت بڑھوانے کی اجازت پہلے ہی لے لی گئی تھی۔ دوسری طرف پاکستان آئی ایم ایف کے قرضوں کی ادائیگی بروقت کر رہا ہے۔ پاکستان کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مالی سال 21ء-2020ء کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکس اہداف سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا گیا ہے۔ پہلی سہ ماہی کا ہدف 970 ارب ڈالر تھا جبکہ 1002 ارب ڈالر ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔ پاکستان کی ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی برآمدات میں41 فیصد اضافہ ہوا۔ اکتوبر کے مہینے میں پچھلے سال کی نسبت برآمدات میں 2.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ درآمدات میں 10.3 فیصد کمی ہوئی ہے اور تجارتی خسارہ 10.3 فیصد سے کم ہوا ہے۔ وزراتِ خزانہ کے مطابق 30 جون 2020ء سے 1 نومبر 2020ء تک حکومتِ پاکستان نے کوئی نیا قرض نہیں لیا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم کردیا گیا۔ اس کارکردگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے پاکستان کے لیے 10 ارب ڈالر امداد کا عندیہ دیا ہے۔ جس کا زیادہ تر حصہ ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوگا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان سفارتی سطح پر اس موقع سے معاشی فائدہ نہ اٹھا سکا تو کیا ہوگا؟ ایسی صورتحال میں پاکستانی ڈالر کے ذخائر 12 ارب ڈالر کی سطح پر برقرار نہیں رہ سکیں گے۔ ڈالروں کی ادائیگی سے ملک میں طلب اور رسد میں فرق بڑھ سکتا ہے اور ڈالر کی قیمت

اوپر جاسکتی ہے۔ دوسری طرف ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی ادارے پاکستان کو مزید قرض دینے سے گریز کریں گے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد کم ہوسکتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے ماضی کی حکمتِ عملی اپنانا سود مند ثابت ہوسکتا ہے، یعنی جس طرح اگست 2020ء میں چین سے ایک ارب ڈالر لے کر سعودی عرب کو دیا گیا تھا اسی طرح چین سے 4 ارب ڈالر کی درخواست بھی کی جاسکتی ہے اور حکومت بھی شاید اس آپشن پر غور کر رہی ہو، لیکن رقم زیادہ ہونے کی وجہ سے انکار ہوجانے کا خوف موجود ہے۔ ان معاملات سے نمٹنے کے لیے حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے، آنے والے چند دنوں میں اندازہ ہوجائے گا لیکن یہ بات طے ہے کہ اگر مؤثر حکمتِ عملی نہ اپنائی گئی اور بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو ایک نئے معاشی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔ جو بائیڈن کے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد پاکستان اور امریکا کے براہِ راست معاشی اور سفارتی تعلقات پر کیا اثر پڑتا ہے اس سے متعلق کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی لیکن ماضی کے فیصلوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے کچھ اندازے لگائے جاسکتے ہیں۔ براک اوباما جب 2008ء میں امریکی صدر اور جو بائیڈن نائب صدر منتخب ہوئے تو 2009ء میں اوباما انتظامیہ نے پاکستان کے لیے 7 ارب 50 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد پر دستخط کیے۔ لیکن دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد

پاکستان سے متعلق انتہائی سخت ٹویٹ کی اور ستمبر 2018ء میں پاکستان کی 30 کروڑ ڈالر کی امداد معطل کردی۔ اس کے علاوہ 2008ء میں جب جو بائیڈن سینیٹ فارن ریلیشن کمیٹی کے چیئرمین تھے، تو انہوں نے Enhanced Partnership Act 2008 تشکیل دیا۔ 2009ء میں پاک امریکا تعلقات میں بہتری کے لیے کیری لوگر برمن ایکٹ بھی بائیڈن کی کاوشوں سے ممکن ہوا تھا۔ وہ پاکستان کو اپنا مضبوط اتحادی قرار دیتے رہے ہیں اور ہر موقع پر اس کی اہمیت کو تسلیم بھی کیا ہے۔ لہٰذا بائیڈن دورِ حکومت میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات زیادہ مضبوط ہونے کی امید ہے۔ یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرے گی، پابندیاں اٹھائی جائیں گی اور نئے معاہدے کیے جائیں گے۔ جس کا اثر پاکستانی معیشت پر بھی پڑے گا۔ ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کم ہوتی ہے تو پاکستان کا تیل درآمد کا خرچ کم ہوسکتا ہے۔ اس سے ڈالر کی بھی بچت ہوگی اور پاکستان میں مہنگائی بھی کم ہو سکے گی۔ یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کہ ایرانی تیل کی قیمت عمومی طور پر کم ہوتی ہے۔ اس کی وجہ طلب و رسد کا قانون ہے۔ ایران دنیا کا چوتھا بڑا تیل اور گیس پیدا کرنے والا ملک ہے لیکن بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے وہ

تیل پیدا نہیں کر پارہا اور تیل نکال بھی لے تو اسے بیچ نہیں سکتا۔ مجبوراً وہ تیل بلیک میں بیچا جاتا ہے۔ جو بائیڈن کی حکومت آنے کے بعد اگر ایران پر پابندیاں کم ہوتی ہیں تو طلب وہی رہے گی لیکن ایران کے شامل ہونے کی وجہ سے رسد بڑھ جائے گی۔ ایران کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وہ تیل کی قیمت سعودی عرب سے کم رکھے۔ 2016ء میں جب امریکا نے ایران پر سے پابندیاں اٹھائی تھیں تو سعودی عرب کا یورپ میں تیل بکنا کم ہوگیا تھا کیونکہ ایران نے ریٹ کم رکھا تھا۔ یاد رہے کہ ایران اوپیک کا ممبر تو ہے لیکن اپنا تیل بیچنے کے لیے قیمتوں کو مناسب رکھنے کا پابند نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے فروری 2020ء میں سعودی عرب نے معاہدے سے زیادہ تیل نکالنا شروع کردیا تھا۔ جس کے نتیجے میں دنیا میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئیں اور کوئی بھی سعودی عرب کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ لہٰذا ایران بھی تیل کی قیمتیں مارکیٹ کے مطابق زیادہ رکھنے کا پابند نہیں ہوگا اور سعودی عرب سے مقابلے کی وجہ سے وہ تیل کی قیمتیں کم ہی رکھے گا جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے۔ اس حوالے سے ایک اور اہم ترین بات یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کی نسبت امریکا اور چین کے ​​​​​​​ مابین تعلقات میں بہتری آنے کی، اور امید ہے کہ ان حالات کا فائدہ پاکستان کو بھی ہوگا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *