برکس ممالک کے رہنماؤں کا بارہواں اجلاس :موجودہ عالمی بحرانوں کا مقابلہ کیسے ممکن ہے؟ چینی صدر کا دبنگ خطاب

بیجنگ (ویب ڈیسک)ہم سب ایک ہی کشتی پر سوار ہیں۔ جب ہوائیں تیز ہوں اور لہریں طوفانی ہوں تو ہمیں اپنی سمت درست رکھنا ہوگی ، تندو تیزلہروں پر قابو پانے کے لئے باہمی اتحاد کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ ہم اپنے بہتر مستقبل کی جانب طویل اور دشوار گزر سفر کامیابی سے مکمل کر سکیں۔

ان خیالات کا اظہار چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے برکس ممالک کے رہنماؤں کے بارہویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی اور معاشی کساد بازاری شدت اختیار کر رہی ہے، ترقی پذیر اور غریب ممالک میں لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر آنا مشکل ہورہا ہے۔ صدر شی جن پھنگ کا خطاب اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ برکس ممالک کے سربراہ اجلاس میں ان کے خطاب کو عالمی رہنماؤں نے بھی شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اجلاس میں کہا کہ چین نے نوول کورونا وائرس کی وبا کو کامیابی کے ساتھ کنٹرول کیا ہے اور دوسرے ممالک کے لئے ایک مثال قائم کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ چین اس وبا کا شکار پہلا ملک ہے ۔ لیکن چین نے دنیا کو یہ ثابت کر دیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کو شکست دی جاسکتی ہے ۔ میں صدر شی جن پھںگ اور چینی عوام کو اس وبا پر کامیابی کے ساتھ قابو پانے پر مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔نتائج کافی عملی ، واضح اور قابل اعتماد ہیں۔میں یہ اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ چین نے دوسرے ممالک کے لئے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔برکس ممالک میں روایتی ادویات کے بارے میں سیمینار کے انعقاد کے حوالے سے چینی صدر شی جن پھنگ کی تجویز کا ذکر کرتے ہوئے پوٹن نے کہا کہ وہ اس بات کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ

موجودہ وبا کے تناظر میں تمام ممالک کو ایک دوسرے کو الگ تھلگ کرنے کے بجائے مل کر کام کرنا چاہئے ۔برکس ممالک کے رہنماؤں کا بارہواں سربراہ اجلاس سترہ تاریخ کی شام ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے “وبا پر قابو پانے، ایک دوسرے کی مدد کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے ” کے عنوان سے ایک اہم تقریر کی ، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ برکس ممالک کثیرالجہتی ، اتحاد اور تعاون ، کھلے پن، جدت ، لوگوں کے روزگار ، تحفظ ماحول اور تخفیف کاربن پر توجہ مرکوز رکھیں اور وبا پر قابو پانے میں ایک دوسرے کی مدد کریں اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لئے مل کر کام کریں۔شی جن پھنگ نے اپنی تقریر میں اس بات کی نشاندہی کی کہ موجودہ صدی کی وبا اورگزشتہ صدی میں ہونے والی تبدیلیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں ، اوردنیا پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انسانی معاشرے کو موجودہ صدی کی بدترین وبائی صورت حال کا سامنا ہے ، اور عالمی معیشت 1930 کی دہائی کے مالی بحران کے بعد بدترین کساد بازاری کا شکار ہے۔ ایسے اہم لمحے میں ، اس اجلاس کا انعقاد ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ پہلے ، ہمیں کثیرالجہتی اور عالمی امن و استحکام کو برقرار رکھنا چاہئے۔ دوسرا ، ہمیں وحدت اور تعاون کی راہ پر قائم رہنا چاہئے اور وبا کے چیلنجوں پر قابو پانے کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے۔ تیسرا ، ہمیں عالمی معیشت کی بحالی کو فروغ دینے کے لئے کھلے پن اور جدت کاری کی راہ پر قائم رہنا چاہئے۔ چوتھا ، ہمیں لوگوں کو روزگار کی فراہمی کو ترجیح دیناہوگی اور پائیدار عالمی ترقی کو فروغ دینا ہوگا۔پانچواں ، ہمیں ماحول دوست اور کم کاربن کی حامل ترقی کی راہ پر عمل پیرا ہونا چاہئے ، اور انسان اور فطرت کی ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے بقائے باہمی کو فروغ دینا ہوگا۔مختلف ممالک کی ممتازشخصیات نے اس حوالے سے کہا کہ چین نے برکس ممالک کے تعاون میں مثبت طور پر شرکت کی ہے اور اہم خدمات سر انجام دی ہیں ۔ جناب شی کے خطاب نے وبا کے مقابلے میں دنیا کے تعاون کی مضبوطی ، کثیر الجہتی کے تحفظ اور دنیا کی معیشت کی بحالی کو بھر پوراعتماد فراہم کیا ہے ۔رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے چیئر مین جم اونیل نے کہا کہ جناب شی نے یہ اپیل کی کہ برکس ممالک کو عالمی انصاف اور کثیرالجہتی کا تحفظ کرنا چاہیئے ۔ یہ موجودہ عالمی صورت حال کے تحت انتہائی اہم ہے ۔ مختلف ممالک کو باہمی تعاون کو مضبوط بناتے ہوئے کووڈ- ۱۹ کے لیے ویکسین اور علاج کے حوالے سے ریسرچ کو فروغ دینا چاہیئے اور وبا کے کنٹرول کی بنیاد پر معاشی بحالی کے لیے کوشش کرنی چاہیئے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *