اچھا تو یہ بات تھی ۔۔۔!!!مریم نواز کو کس چیز کی جلدی ہے؟ بڑا دعویٰ کر دیا گیا

کوئٹہ(ویب ڈیسک) سابق وزیراعلی بلوچستان نواب ثنا اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ مریم نواز کو وزیراعظم بننے کی بہت جلد ہے ، تین سال تک ٹھیک تھے ، ان کے بیانیے کا انکار کیا لوٹے بن گئے ، قومی موقر ناے کےمطابق ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم بن گئی اور ن لیگ

کا بیانیہ سامنے آگیا ، مارچ سے پہلے نواز شریف کا بیانیہ تھا کہ ووٹ کو عزت دو اور آج کے بیانیے میں بہت بڑ فرق ہے ، یہ جاتی عمرہ کے رہنے والے ہیں اور ان کا کلچر ہی یہی ہے ،جاتی عمرہ انڈیا میں ہے اور پھر یہاں پر آباد ہوئے ، ہم اپنی حیثیت میں جیت کرآتے ہیں۔میں نے کہا میاں صاحب بلوچستان کے لوگ کہتے ہیں نوازشریف قابل بھروسہ نہیں ،سب نوازشریف کے ساتھ تھے مگر ان کی عادات کی وجہ سے چھوڑ گئے ۔معاون خصوصی اطلاعات پنجاب فردوس عاشق اعوان نے کہا اپوزیشن کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں،عثمان بزدار جمہوری طریقے سے پنجاب کو چلا رہے ہیں، اپوزیشن کی چیخیں تو نکلیں گی،محب وطن لوگ نوازشریف ، مریم نواز اور جاتی عمرہ کے بیانیے کے ساتھ کھڑے نہیں ہونگے ،ن لیگ سے کئی پرندے اڑنے والے ہیں،وقت آنے پر ان کی تعداد بتا دینگے ۔ انہوں نے اپنے ایک ا نٹر ویو میں کہنا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ زہری نے کہا ہے کہ ہمیں نواز شریف کے بیانیے اور اختر مینگل کی کوئٹہ جلسے کی میزبانی پر اعتراض تھا ملک میں اس وقت ایک ہی ادارہ پاکستان آرمی ڈسپلنڈ ادارہ ہے اگر جنرل قمر جاوید باجوہ اتنے ہی برے ہیں تو نواز شریف نے انہیں تعینات کیوں کیانواز شریف کے قول وفعل میں تضاد ہے بلوچستان کی قومی اسمبلی میں کم نمائندگی کی وجہ سے اس صوبے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا صوبے میں ہر ایک کا اپنا ووٹ بینک ہے کوئی پارٹی کی ووٹوں سے

نہیں جیتتا مریم نواز کی گاڑی چلائی وہ میری بیٹی جیسی ہے لیکن اب اصولوں پر اختلاف ہے کیا اپنے لوگوں کو بے عزت کر کے بیچ چوراہیں پر چھوڑا جاتا ہے بلوچستان کے لوگوں کی روایات ہیں اور وہ سیاست میں عزت کیلئے آتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی قومی اسمبلی میں کم نمائندگی کی وجہ سے یہاں کے لوگوں پر کوئی توجہ نہیں دے رہا بلو چستان میں ہر ایک کا اپنا ووٹ بینک ہے کوئی صرف پارٹی ووٹوں سے نہیں جیتتا جس طرح ساؤتھ پنجاب کے لوگوں کے اپنے ووٹ ہیں جس کی بنیاد پر الیکٹیبلز پاکستان مسلم لیگ(ن) چھوڑ کر باپ پارٹی میں چلے گئے بلوچستان میں الیکٹیبلز ہر وقت جیتتے ہیں جس طرح پنجاب کے لوگ کہتے ہیں کہ ساؤتھ پنجاب میں نظریاتی ووٹ نہیں اسی طرح بلوچستان میں پارٹی کے ووٹس بہت کم ہوتے ہیں بلوچستان میں جس طرح جمالی اور مگسی صاحبان ہیں ان کی سیٹیں کنفرم ہوتی ہیں میں مسلم لیگ(ن) کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے چکا ہوں لیکن یہ ضروری نہیں کہ مجھے سارے ووٹ مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے دیئے ہوں اس میں میری برادری کے ووٹ بھی شامل ہیں 2018میں مسلم لیگ(ن) کا ٹکٹ لینا بھی لوگوں کیلئے دشوار تھا میرا حلقہ انتخاب آج کانہیں بلکہ یہاں سے میں 88سے جیتتا آرہا ہوں ہر کوئی اپنے فیصلے میں آزاد تھا ہم مسلم لیگ(ن) میں روک گیا اور انہوں نے بی اے پی میں شمولیت اختیار کی کوئٹہ جلسے میں جب مجھے بتا یا گیا تو میں جنرل(ر) قادر کو کہا کہ

ٹھیک ہے اگر وہ مینگل صاحب کو ترجیح دینا چاہتے ہیں دے دیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں میں نے مریم نواز کی گاڑی چلائی اور انہیں بیٹی بنا یا تھا لیکن اب اصولوں پر اختلاف ہے مریم نواز میری بیٹی کی جگہ پر ہے اگر اپنے ہی پارٹی کے لوگوں کو بھی چوراہیں پر چھوڑا جائے بلوچستان ایک قبائلی صوبہ جہاں لوگوں کے اپنے روایات ہیں لوگ سیاست میں عزت کیلئے آتے ہیں انہوں نے کہا کہ گجرانولہ کے بعد کراچی کا جلسہ جس میں نواز شریف نے خطاب نہیں کیا تاہم کوئٹہ کے جلسے میزبانی انہوں نے کی جنہوں نے لشکر بنائے ہیں جن کے بھائی باہر بیٹھ کر بلوچستان میں پنجابیوں کو مارنے اور لوگوں کو لڑانے کی بات کرتے ہیں اور لوگوں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ چیک کرتے ہیں کہ ا گر فیصل آباد،لاہور، گجرانولہ کا ہے تو انہیں ماردیں اور بلوچستان کے راستے بیرون ملک جانے والوں کو پکڑ کر قتل کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں نواز شریف کے بیانئے اور اختر مینگل کی میزبانی پر اعتراض ہے میرے بچوں کو پاکستان اور مسلم لیگ(ن) کا جھنڈا اٹھانے پر شہید کیا گیا جس کا بارہا اعتراف کیا جاچکا ہے اختر مینگل کو حکومت سے نکلے ایک ماہ نہیں ہوا اور انہیں بلوچستان پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی نواز شریف کو چاہیے کہ وہ اختر مینگل سے پوچھتے کہ انہوں نے ڈھائی سال عمران خان کے ساتھ گزارے تو وہاں آپ کوکیوں نکا لا اور یہاں آکر پی ڈی ایم میں انتشار پھیلا نا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے بھی کہا ہے کہ ہمیں نواز شریف کے بیانیے سے اختلاف ہے پی ڈی ایم میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا کسی کا نام لیکر انہیں ٹارگٹ کیا جائے پاکستان میں اس وقت ایک ہی ادارہ فوج ڈسپلنڈ ہے جن کو آپ نے خود تعینات کیا ہے آپ انہی پر الزام عائد کررہے ہیں اور فوج کو ان کیخلاف بغاوت پر اکسارہے ہیں نواز شریف کے قول وفعل میں تضاد ہے جنرل قمر جاوید باجوہ اتنے ہی برے ہے تو نواز شریف نے انہیں تعینات کیوں کیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *