طلباء تیاری کرلیں۔۔!! ملک کے اہم صوبے میں بچوں کیلئے خصوصی ریڈیو نشریات کا آغاز، کونسی جماعتوں کیلئے پروگرام نشر کیے جائیں گے؟ جانیے

لاہور(ویب ڈیسک)صوبہ بھر میں ریڈیو سکول کی نشریات کا آغاز کردیا گیا،پہلی سے پانچویں جماعت کے تعلیمی پروگرام روزانہ کی بنیادپر ریڈیو سٹیشن پر نشر کیے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ بھر میں طلبہ کے لئے ریڈیوسکول کی خصوصی نشریات کاآغازکردیاگیا۔پہلی سےپانچویں جماعت کےتعلیمی پروگرام روزانہ کی بنیادپرریڈیو سٹیشن پر نشر ہونگے۔نرسری سےتیسری جماعت کےبچوں

کیلئےصبح دس سےگیارہ بجے نشریات پیش کی جائیں گی۔چوتھی اورپانچویں جماعت کیلئےصبح گیارہ سےبارہ بجےنشریات آن ائیرہونگی۔پہلی سے تیسری جماعت کی نشریات دو سے تین بجے دوبارہ نشر ہونگی ،جبکہ چوتھی سے پانچویں جماعت کی نشریات تین سے چار بجے تک دوبارہ نشر ہوں گی۔لاہور میں ایف ایم 94 پر بچے نشریات سن سکیں گے جبکہ فیصل آباد ،پشاور،سیالکوٹ ایف ایم 101 پر نشریات سنیں گے۔بچے لیکچرز کو آن لائن لنک کے ذریعے بھی دیکھ سکیں گے۔لیکچرز کو متعلقہ ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ بھی کیا جاسکے گا۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق حکومت نے ملک بھر میں 26 نومبر سے 10 جنوری تک تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کردیا۔ملک میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہواہے اور تعلیمی اداروں میں کورونا مثبت آنے کی شرح 82 فیصد تک جاپہنچی ہے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی سربراہی میں وزرائے تعلیم کا اجلاس ہوا جس میں ملک اور بالخصوص تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شفقت محمود نےکہا کہ 26 نومبر سے اسکول، کالجز، یونیورسٹیز اور ٹیوشن سینٹرز کوبند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔شفقت محمود کاکہنا تھا کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک تعلیمی ادارے بند رکھیں جائیں گے اور 25 دسمبر سے 10 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی جس کےبعد 11 جنوری سے تعلیمی ادارے دوبارہ کھولیں گے۔انہوں نے کہا کہ جہاں آن لائن نظام ہے وہاں آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری رہے گا اور جہاں آن لائن نظام نہیں ہوگا وہاں اساتذہ ہوم ورک دیں گے جب کہ اس حوالے سے فیصلے صوبائی حکومتیں کریں گی۔شفقت محمود کاکہنا تھا کہ دسمبر میں ہونے والے تمام امتحانات کو 15 جنوری تک ملتوی کردیا گیا ہے تاہم انٹری لیول کے امتحانات روٹین کے مطابق جاری رہیں گے اور انہیں ایس او پیز کے ساتھ منعقد کیا جاسکتا ہے جب کہ یونیورسٹیز کے ہاسٹلز میں دور دراز علاقوں سے آنے والے ایک تہائی طلبہ کو رہنے کی اجازت ہوگی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.