مفرور شخص کی تو شہریت معطل، شناختی کارڈ بلاک ہوجاتے ہیں۔۔۔!!!نواز شریف کے حوالے سے عدالت نے بڑا حکم جاری کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق مفرور شخص کی تو شہریت معطل، شناختی کارڈ بلاک ہوجاتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نےنواز شریف اسحاق ڈار کی تقاریر ٹی وی پر نشر کرنے پر پابندی کیخلاف درخواست پر اہم ریمارکس دیے۔ جمعرات کے روز سماعت

کے دوران ریمارکس دیے گئے کہ اشتہاری ہونا ایک سیریس مسئلہ ہے، مفرور ملزمان کو روزانہ ڈسکس کیا جاتا ہے، صرف انہیں ایئر ٹائم دینے سے روکا گیا ہے، مفرور شخص کی تو شہریت معطل، شناختی کارڈ بلاک ہوجاتے ہیں۔دوران سماعت درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس نے استفسارکیاکہ آپ کس کےلئے ریلیف مانگ رہے ہیں؟ جس پر وکیل نےکہاکہ ہم عوامی مفاد کےلئے ریلیف مانگ رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ عام لوگوں کےلئے جو قانون ہے اس عدالت میں وہ سب کے لیے ہوگا،اگرکسی نے کوئی اپیل ہی دائر نہیں کی تو اس کامطلب ہے کہ کوئی اس آرڈر سے متاثر ہی نہیں،یہاں پر دو نام ہیں جو کہ عدالتی اشتہاری ہے؟کیا یہ دو افراد متاثر ہوئے ہیں یا میڈیا چینل متاثر ہوا ہے؟جو لوگ متاثر ہوئے ہیں وہ پیمرا میں اپیل کریں،جس پر وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ دو نہیں ہزاروں افرادمفرورہیں، پٹشنر چاہتے ہیں کہ انہیں عوام تک معلومات پہنچانے سے نہ روکا جائے،درخواست گزار متاثر ہوئے ہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 19کے تحت ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی ہے، مفرور شخص کی تو شہریت بھی معطل ہے شناختی کارڈ بلاک ہوجاتے ہیں، درخواست گزار کیسے متاثر ہوئے ہیں؟کیا آپ چاہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کی تقریر بھی نشر کی جائے،کیا درخواست گزار چاہتے ہیں کہ عدالتی اشتہاری کی تقاریر کو ٹی وی پر دکھانا چاہیے؟جب ایک شخص اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے، عدالتی اشتہاری کا قومی شناختی کارڈ بلاک ہوچکا،کیا آپ چاہتے ہیں کہ اشتہاری کے لئے قانون الگ الگ ہو، درخواست گزار میں سے کوئی بھی متاثر نہیں ہوا،عدالتی اشتہاری نے اس عدالت سے رجوع نہیں کیا آپ کیسے کرسکتے ہیں؟پیمرا آرڈر نے عدالتی اشتہاری کی تقریر چلانے سے منع کیا، اس کے بارے میں خبر چلانے سے منع نہیں کیا۔چیف جسٹس نےکہاکہ آزادی اظہار رائے، رائٹس ٹو انفارمیشن سب کا بنیادی حق ہے،اشتہاری کے لئے پوری دنیا میں قانون موجود ہے،یہ عدالت کسی اشتہاری کو ان ڈائریکٹ ریلیف نہیں دے سکتی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *