فیصلے کی گھڑی آگئی!اسرائیلی وزیر اعظم کا خفیہ دورہِ سعودی عرب، پاکستان بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہا ہے؟ رؤف کلاسرا کے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور( نیوز ڈیسک) سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ عالمی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات اتوار کو سعودی عرب میں بسائے جانے والے جدید شہر نیوم میں ہوئی تھی، اس میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے چیف کے ساتھ ساتھ غالباً امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو بھی وہیں موجود تھے۔

اپنے وی لاگ میں رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کی تفصیل تو ابھی تک سامنے نہیں آئی لیکن بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران اس طویل ملاقات کا مرکز تھا۔رؤف کلاسرا نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب مختلف خلیجی ممالک اور سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کیا تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ ان ممالک میں کوئی بڑا ردعمل آئے گا لیکن ہر طرف خاموشی رہی تو سعودی عرب کو بھی اسرائیل سے تعلقات بہتر کرنے کا حوصلہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ ایک ہی وقت میں ایران اور اسرائیل جیسے دو تگڑے مخالفین نہیں بنانے چاہئیں، اسی لیے خلیجی ممالک نے بڑے فیصلے کرنے کی ٹھان لی ہے۔ان کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے اسرائیلی وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ملاقات کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، ٹرمپ کی کوشش ہے کہ 20 جنوری سے پہلے ہی وہ عرب اسرائیل تعلقات میں بہتری لے آئیں کیونکہ اس کے بعد وائٹ ہاؤس میں نیا صدر براجمان ہو جائے گا۔ رؤف کلاسرا نے یاد دلایا کہ جوبائیڈن اپنی انتخابی مہم کے دوران انسانی حقوق کے حوالے سے سعودی عرب کے متعلق سخت ریمارکس دے چکے ہیں،

اس لیے سعودی ولی عہد ان کے آنے سے پہلے ہی اہم اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس سارے عمل میں شہزادہ محمد بن سلمان یا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو کیا ملے گا؟ ریاستوں کے مفادات سے ہٹ کر ملکوں کے سربراہوں کے ذاتی مفادات بھی ہوتے ہیں۔ رؤف کلاسرا کا تجزیہ یہ ہے کہ نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ کے بدترین کرپشن اسکینڈل میں پھنسے ہوئے ہیں، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے آبدوزوں کے سودے میں بہت بڑا کک بیک لیا ہے، وہ خلیجی ممالک سے تعلقات بنا کر اپنے خلاف ہونے والی تنقید کو بے اثر کرنا اور اس بڑے قدم کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہزادہ محمد بن سلمان پر یمن جنگ چھیڑ دینے کی وجہ سے مسلسل تنقید ہوتی رہی ہے، جمال خشوگی کے قتل کے معاملے پر بھی وہ بہت دباؤ میں ہیں، ملک کے اندر بھی انسانی حقوق کے حوالے سے ان کے دور کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے اور واشنگٹن میں اس حوالے سے سخت ردعمل دیکھنے کو ملتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان وجوہات کی بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنا کر وہ واشنگٹن میں بھی اپنی اہمیت بحال کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ انہیں اندازہ ہے کہ تیل پر انحصار کا دور اب ختم ہو رہا ہے اس لیے وہ معیشت میں تنوع لانا چاہتے ہیں جن میں سیاحت اور ٹیکنالوجی کی ترقی بہت اہم ہے۔رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ اسرائیل سے وہ فلسطینیوں کو کیا مراعات دلا سکتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر کوئی معاہدہ کرنے پر وہ ملک میں اور مسلمان ممالک کے عوام کی تنقید کی زد میں آ سکتے ہیں۔

انہوں نے ترکی کے صدر طیب اردوان اور سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان کے درمیان ہونے والی حالیہ ٹیلیفون کال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے کیونکہ ان دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کی صورت میں پاکستان کے لیے ایک اور آزمائش شروع ہو جاتی اور اس کے لیے دونوں کیمپوں سے تعلقات میں توازن قائم رکھنا مشکل ہو جاتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے اسرائیل کے ساتھ بیک ڈور رابطے رہے ہیں، جنرل مشرف کے دور میں خورشید قصوری اور اسرائیل کے وزیرخارجہ کے درمیان ملاقات بھی ہوئی تھی۔ رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ میں یہ سوچ ہمیشہ سے رہی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہ رکھنے کی وجہ سے وہ بھارت کے قریب ہو گیا ہے اور ایڈوانس جنگی ٹیکنالوجی انڈیا کو دیتا رہا ہے۔ اس لیے پاکستان کو کسی حد تک اسرائیل کو نیوٹرل رکھنا چاہیئے۔انہوں نے یاد دلایا کہ 27 فروری کو پاک بھارت جھڑپ کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ بھارت اور اسرائیل مل کر ہم پر حملہ کرنا چاہتے تھے، اس پر رؤف کلاسرا نے ان سے سوال پوچھا تھا کہ پاکستان کو کوشش کرنی چاہیئے کہ اسرائیل کو بھارت کی طرف زیادہ نہ جانے دے اور اس کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سوال کے جواب میں عمران خان نے فلسطین کے حق میں قائداعظم کے موقف کی بات کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان اسی بات پر کھڑا ہے۔رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بہتر ہونے پر پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے لیے امتحان شروع ہو گا، کل کو اگر سعودی عرب اگر پاکستانی حکومت کو اسرائیل کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے کے لیے کہتا ہے تو پاکستان کی مذہبی جماعتوں پر اپنا اثرورسوخ بھی اسے استعمال کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے خلیج کی 7 عرب ریاستوں کے خلاف جا کر اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کی مزاحمت کرنا بہت مشکل ہو گا۔ ہمیں کسی نہ کسی مرحلے پر کھل کر ایک بیانیہ اختیار کرنا ہو گا، صرف خاموش رہنا زیادہ دیر ممکن نہیں ہو گا۔رؤف کلاسرا نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ عرب ممالک جب اسرائیل کے ساتھ معاہدے کریں گے تو یہ ایران کے خلاف ایک بہت بڑا اور طاقتور اتحاد ہو گا، اس لیے وہ شدید تنہائی کا شکار ہو کر مشکل میں پڑ سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.