‘بھارتی عزائم ناکام بنا دیئے’۔۔۔ مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے بڑا اعلان کردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مشیرقومی سلامی ڈاکٹر معیدیوسف نے کہا ہے کہ پاکستان بالکل محفوظ ہے بھارت جودہشت گردی کرنا چاہتا تھا ہم نے عزائم ناکام بنائےہیں ہمیں اپنےاداروں کوکریڈٹ لازمی دیناہےکیونکہ عزائم ناکام بنائے۔اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ بھارت دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے

اس میں کوئی شک نہیں ایسےواضح ثبوت دےدیئےہیں کہ کوئی شک ہی نہیں رہتااب کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ہم خاموش بیٹھےرہیں گے کوئی اس غلط فہمی میں بھی نہ رہےکہ ہم جواب نہیں دےسکتے بھارت جودہشت گردی کرناچاہتاتھاہم نےعزائم ناکام بنائےہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارےاداروں نےبھارت کےعزائم99فیصدناکام بنائےہیں، آج دنیاکوبھارت کاچہرہ دکھارہےہیں اب سیاسی جماعتوں سےدرخواست ہےبھارت کوفائدہ نہ اٹھانےدیں قومی سلامتی کےمعاملات پرسیاست نہیں کرنی چاہیے۔معید یوسف نے کہا کہ بھارت چاہتاہے پاکستان اور افغانستان میں غلط فہمی پیداہو لیکن پاکستان افغانستان کیساتھ تعلقات رکھتا ہےغلط فہمی نہیں ہوگی،بھارت افغان سرزمین اوران کے ادارے استعمال کررہاہے۔مشیرقومی سلامی نے کہا کہ پاکستان نےبھارت سےمتعلق آج ناقابل تردیدثبوت دیئے،دستاویزی اورآڈیوریکارڈنگ کے ثبوت دنیاکےسامنےرکھ دیئے، جیسےثبوت جمع کیےگئےہمارےاداروں کوکریڈٹ دیناچاہیے،بھارت کےدوست ممالک آنکھیں بندکرلیتےہیں توبات کچھ اورہوگی آج دنیاکےسامنےواضح ثبوت رکھےہیں دنیاکودیکھناچاہیے۔ ۔ دوسری طرف ایک خبر کے مطابق لاہور کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کو بکتر بند گاڑی میں عدالت لانے کے خلاف درخواست پر سیکرٹری داخلہ پنجاب اور ایس پی سیکیورٹی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست میں شہباز شریف کی جانب سے مو¿قف اختیار کیا گیا کہ کمر درد میں مبتلا ہوں لیکن سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے بکتر بند گاڑی میں لایا جا رہا ہے، گاڑی کی حالت بھی درست نہیں، اس وجہ سے کمر درد میں اضافہ ہو رہا ہے، استدعا ہے کہ عدالت بکتر بند گاڑی میں لانے سے روکنے کا حکم دے۔سیکریٹری داخلہ پنجاب نے بھی جواب جمع کرایا جسے عدالت نے مسترد کر دیا اور حکم دیا کہ سیکرٹری داخلہ اور ایس پی سیکیورٹی 19 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت دیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ کوئی ذمہ داری لینے کو تیار ہی نہیں ہے، سب ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔عدالت نے شہباز شریف کی جیل میں طبی سہولتیں نا ملنے کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر بھی وکلاءکو بحث کے لیے 23 نومبر کو طلب کر لیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *