خادم حسین رضوی سے متعلق انکشاف

خادم حسین رضوی بے حد رنجیدہ تھے ، انہوں نے آخری گفتگو میں کیا کہا ؟
سینئیر صحافی و تجزیہ کار اوریا مقبول جان نے خادم حسین رضوی سے متعلق انکشاف کر دیا

اسلام آباد ( 20 نومبر 2020ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار اوریا مقبول جان نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی سے متعلق چند انکشافات کیے۔ اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ علامہ خادم حسین رضوی کے انتقا-ل سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ خلا کبھی پُر نہیں ہو سکے اُس کی وجہ اُن کی لیڈر شپ ہے۔ جس طرح خادم حسین رضوی نے لوگوں کو دیوانہ بنایا ،انہیں اکٹھا کیا، جس طرح انہوں نے لوگوں کے دلوں میں عشق رسولصلى الله عليه وسلم پیدا کیا، جس طرح انہوں نے لوگوں کے دلوں میں اقبال کی محبت پیدا کی، ایسا میں نے اپنی 65 سالہ زندگی میں اس سطح پر کسی اور کو لیڈر شپ دکھاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اوریا مقبول جان نے کہا کہ ایسا شخص اب دور دور تک نظر نہیں آتا، ہماری نظر میں اُن کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اُن کی سختی صرف محبت رسول صلى الله عليه وسلم کے معاملے میں دیکھی۔ میری اُن سے آخری ملاقات آج سے کچھ عرصہ قبل ہوئی تھی، اُن کے پاس دنیا بھر سے لوگ آتے تھے اور وہ معذوری کے باوجود رات گئے بیٹھے رہتے تھے اور لوگوں سے ملاقاتیں کرتے تھے۔ میری اُن سے آخری بات کچھ دن قبل ہوئی جب وہ اسلام آباد سے واپس آئے تھے ، انہوں نے بتایا کہ میری طبیعت سخت خراب ہے۔ اسلام آباد میں کارکنان پر ہونے والی آنسو گیس اور لاٹھی چارج پر وہ دُکھی تھے۔ کیونکہ وہ دھرنا کرنے نہیں بلکہ ایک جلوس اور ریلی نکالنے گئے تھے جو خاکوں کے حوالے سے تھے۔ ایسی ریلی پر بھی پتھراؤ ہونا اُن کے لیے رنج کا باعث تھا۔ اوریا مقبول جان نے کہا کہ خادم حسین رضوی نے آج کے دور میں ختم نبوت صلى الله عليه وسلم کی مشعل اُٹھائی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں ، امت مسلمہ میں جتنی لبرل لابی ہے وہ صرف اُن سے خوفزدہ تھے۔خادم حسین رضوی کے بارے میں جب اُن کو پتہ چلتا تھا تو اُن کی ٹانگیں کانپتی تھیں، یہ خادم حسین رضوی کی بہت بڑی بات تھی کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی محبت کو عام لوگوں کے دلوں میں اُجاگر کیا۔ یہاں تک کہ توہین کرنے والے بھی خادم حسین رضوی سے ڈرتے تھے اور اُن کا نام سُن کر وہ کانپ اُٹھتے تھے۔ اوریا مقبول جان نے مزید کہا کہ عموماً ہوتا یہ ہے کہ اولاد ایسے جدوجہد کرنے والے باپ کے ساتھ نہیں چلتی لیکن خادم حسین رضوی کے بیٹے ، اُن کی بیٹیاں سب ہی اپنے والد کے ساتھ تھے۔ انہوں نے ڈیڑھ مرلے کے گھر میں اپنی پوری زندگی گزار دی ، نہ اُن کا کوئی بنگلہ تھا، نہ کوئی گاڑی تھی۔ انہوں نے مزید کیا کہا آپ بھی دیکھیں:

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *