تمام دعویٰ دھرے کے دھرے رہ گئے!!! تحریک انصاف کی حکومت نے قرضوں کے معاملے میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا، نیا ریکارڈ قائم

کراچی(ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی حکومت نے ملکی و غیر ملکی قرضوں کا نیا ریکارڈ قائم کردیا، سرکاری دستاویز کے مطابق ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 44 ہزار 801 ارب روپے ہوگیا ہے، قرضوں کا بوجھ سوا دو سال میں 14 ہزار 922 ارب روپے بڑھ گیا ہے۔سرکاری دستاویز کے مطابق قرضوں

کا بوجھ جی ڈی پی کے 98.3 فیصد ہوگیا، مقامی قرضوں کا بوجھ سوا دو سال میں 7 ہزار 285 ارب روپے بڑھ گیا، جبکہ مقامی قرضوں کا حجم 23 ہزار 701 ارب روپے ہوگیا ہے۔دستاویز کے مطابق بیرونی قرضوں کے بوجھ میں سوا دو سال میں 6 ہزار 416 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد بیرونی قرضوں کا بوجھ 17 ہزار 369 ارب روپے ہوگیا ہے۔دستاویز کے مطابق جون 2018 تک ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 29 ہزار 879 ارب روپے تھا، جون 2018 تک مقامی قرضے 16 ہزار 416 ارب روپے تھے۔سرکاری دستاویز کے مطابق جون 2018 تک غیر ملکی قرضوں کا حجم 10 ہزار 953 ارب روپے تھا، جبکہ 2013 میں ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 14 ہزار 318 ارب روپے تھا۔دستاویز کے مطابق ن لیگی دور میں قرضوں کے بوجھ میں 15 ہزار 561 ارب روپے کا اضافہ ہوا، مشرف کے 9 سال میں قرضوں میں 3 ہزار 200 ارب روپے کا اضافہ ہوا، پیپلز پارٹی کے 5 سال میں قرضوں میں 8 ہزار 200 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔اس سے قبل ایک خبر کے مطابق پی ٹی آئی دور حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر ملک پر قرضوں میں اضافہ ہوا، زرمبادلہ ذخائر اور روپے کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔پی ٹی آئی حکومت اقتدار میں آئی تو ملک میں ادائیگیوں کا توازن بری طرح متاثر تھا، حکومت کو ہر صورت میں رقم کا بندوبست کرنا تھا۔ الیکشن میں کیے وعدوں کو نبھانے کے چکر حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کی ہرممکن کوشش کی مگر دوست ملکوں سے ملنے والا قرض اتنا نہ تھا کہ بیرونی ادائیگوں کو پورا کرسکے۔دوسری جانب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی تلوار بھی لٹک رہی تھی جس کے لئے حکومت نے معیشت کو دستاویز کرنے کی ٹھان لی۔ ملکی مجموعی صورت حال کو دیکھتے ہوئے بیرونی سرمایا کاروں نے بھی کنار کشی اختیار کرلی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *