کپتان چھا گیا: سمندر پار پاکستانیوں کیلئے شاندار سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ۔۔۔ اربوں روپے مختص کر دیئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بینکنگ چینلز کے ذریعے ترسیلات زر بھجوانے کی حوصلہ افزائی کیلئے مراعات پیکیج، بلوچستان کے 30 ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی پر سبسڈی کی سکیم 30 جون تک جاری رکھنے جبکہ مختلف یونیورسٹیوں کو

فنڈز کی فراہمی کی خاطر ایچ ای سی کیلئے 5 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دیدی۔ ای سی سی کا اجلاس مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں 100 سے 200 ڈالر تک ترسیلات زر منتقل کرنے والے بینکوں کیلئے ٹیلی گرافک ٹرانسفر ری بیٹ کی شرح 10 روپے سے بڑھاکر 20 روپے کرنے کی منظوری دی گئی تاہم ترسیلات زر کو بینکنگ چینلز کے ذریعے منتقل کرنے کیلئے بینکوں میں مقابلے کی فضا پیدا ہو۔ سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر سٹیٹ بینک میں موصول ہونے کے بعد ان کے بینک اکائونٹس میں منتقل کرتے وقت عائد ود ہولڈنگ ٹیکس یکم جولائی 2020 سے ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں فنانس بل 2020 کے ذریعے انکم ٹیکس ایکٹ میں ضروری ترامیم متعارف کرائی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ترسیلات زر بینکنگ چینلز کے ذریعے بھجوانے کیلئے یکم ستمبر 2020 سے نیشنل ریمیٹنس لائلٹی پروگرام کا آغاز کیا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت زرمبادلہ پاکستان لانے والوں کیلئے نئی مراعات کا اعلان کیا جائے گا۔ موبائل ایپ کے ذریعے ترسیلات زر پر بھی مراعات دستیاب ہوں گی جو ملکی بینک سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر منتقل کرنے کے سلسلے میں نمایاں کارکردگی دکھائیں گے ان کیلئے مالی سال 2018-19 میں اعلان کردہ مراعات بحال کی جائیں گی جس کا اطلاق جنوری 2020 سے ہوگا۔ اس کے تحت گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 2020 کے دوران ترسیلات زر میں 5 فیصد اضافے کی صورت میں ہر ڈالر پر 0.50 فیصد خصوصی ری بیٹ دیا جائے گا۔

جو بینک ترسیلات زر میں 10 فیصد اضافہ کریں گے انہیں ہر ڈالر پر 0.75 فیصد خصوصی ری بیٹ دیا جائے گا۔ ای سی سی نے اس پیکیج کے تحت مراعات دینے کیلئے 9 ارب 60 کروڑ ڈالر کی گرانٹ کی بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ ای سی سی نے یونیورسٹیوں کو فنڈز کی فراہمی کیلئے ایچ ای سی کو 5 ارب روپے کی گرانٹ دینے کی بھی منظوری دی۔ ایچ ای سی اس گرانٹ کومختلف یونیورسٹیوں میں ضرورت کی بنیاد پر منصفانہ انداز میں تقسیم کرے گا۔ ای سی سی نے نیشنل سکیورٹی ڈویژن میں سٹرٹیجک پالیسی اینڈ پلاننگ سیل کے قیام کیلئے ایک کروڑ 50 لاکھ روپے اور پاک فضائیہ کے بیرون ملک امن مشنوں کے دوران انٹرنیشنل سکیورٹی ڈیوٹی الائونس کی ادائیگی کیلئے 3کروڑ45لاکھ روپے کی ٹیکنیکل گرانٹس کی بھی منظوری دی ۔ کمیٹی نے کیرتھر کے رحمن ویل فور میں ٹائٹ گیس کے ذخائرکی تھرڈ پارٹی توثیق کی صورت میں اس کیلئے مراعات کی منظوری دی ۔ ای سی سی نے حکومت اور کے الیکٹرک کے درمیان بجلی کی پیداواری لاگت کی بنیاد پر جولائی2016سے لے کر مارچ2019تک بجلی کے نرخوں کے تعین کے معاملات طے کرنے کیلئے وزیر توانائی عمر ایوب خان، وزیر اقتصادی امور حماد اظہر، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، سیکرٹری خزانہ اور کے الیکٹرک کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی جسے ایک ہفتہ کے اندر اندرسفارشات مرتب کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ای سی سی نے بلوچستان کے 30ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی کے نرخوں پر سبسڈی30جون2020تک جاری رکھنے کی بھی منظوری دیدی، سبسڈی کا40فیصد حصہ وفاقی حکومت اور60فیصد حصہ بلوچستان حکومت برداشت کرے گی ۔ ای سی سی نے اس مسئلہ کے حل کیلئے وزیر توانائی عمر ایوب خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی اور اسے ایک قابل عمل حل پیش کرنے کی ہدایت کی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.