اُمت مسلمہ میں تشویش کی لہر! اسرائیلی وزیر اعظم نے بڑے ’اسلامی ملک‘ کے دورے کا اعلان کر دیا

منامہ(نیوز ڈیسک ) بحرین اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد دونوں کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہو گئے اور کئی شعبوں میں قربتیں بڑھ رہی ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بحرین کے دورے کا اعلان کر دیا ہے۔ نیتن یاہو نے آج منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ جلد بحرین کا دورہ کریں گے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام کے ذریعے بتایا کہ انہوں نے بحرینی ولی عہد کی جانب سے سرکاری دورے کی ہامی بھر لی ہے۔نیتن یاہو نے ٹویٹر پر لکھا ”میری بحرین کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ سلمان بن حماد الخلیفہ سے بات چیت ہوئی ہے ۔اس گفتگو کے دوران دونوں جانب سے گرمجوشی کے جذبات ظاہر کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی گئی ہے کہ دونوں ممالک اور ان کے عوام کو امن معاہدے کے ثمرات سے جلد از جلد بہرہ مند ہونا چاہیے۔ اسی بات کے پیش نظر بحرینی ولی عہد نے مجھے بحرین کے جلد از جلدسرکاری دورے کی دعوت دی ہے۔جو کہ میں نے بخوشی قبول کر لی ہے اور میں جلد یہ دورہ کروں گا۔ واضح رہے کہ اگست 2020ء میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کے بعد بحرین نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امارات اور بحرین کو اسرائیل کے قریب لانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بنیادی کردار ادا کیا۔ امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس میں ہی ستمبر 2020ء میں ’معاہدہ ابراہیم‘ کی نام سے امن معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ، اماراتی وزیر خارجہ اور بحرینی اعلیٰ حکومتی عہدے دار بھی شریک ہوئے۔“

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.