حق کی جگہ طاقتور، اکثریت کی بجائے اقلیت

’حق کی جگہ طاقتور، اکثریت کی بجائے اقلیت ، غریب کی بجائے امیر کا ساتھ دینے والے عالمی نظام کا برقرار رہنا ناممکن ہے‘ انقرہ ( آن لائن) ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ حق کی جگہ طاقتور، اکثریت کی بجائے اقلیت ، غریب کی بجائے امیر کا ساتھ دینے والے عالمی نظام کا برقرار رہنا ناممکن ہے۔

ٹی آر ٹی کے مطابق سفیروں کے 12 ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ اسلام دشمنی کی صدارتی سطح پر حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، اسلام دشمنی کے خلاف جدوجہد کرنا ، ایمان کے حوالے سے بھی اور بیرونی ممالک میں مقیم اپنے شہریوں کے حوالے سے بھی ،ہماری ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمی تعلقات میں بڑی تبدیلیاں آرہی ہیں، علاقائی تعلقات اہمیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں رسد کی تقسیم نو ہورہی ہے، پیداوار اور لاجسٹک مراکز کی از سر نو تعیین کی جارہی ہے، ئے علاقائی اتحاد قائم ہو رہے ہیں اور سیاسی و اقتصادی پلیٹ فورم ایک نئی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ یہ ہمارا عزم ہے کہ ایسے دور میں ہم اپنی قوم کو کسی نئی شرمندگی کا سامنا نہیں کرنے دیں گے۔ اس نئے دور میں ترکی کو ایک قائد اور بانی کی حیثیت میں آگے بڑھانے کے لئے ہم اپنی پوری طاقت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ رحق کی جگہ طاقتور کا، اکثریت کی بجائے مٹھی بھر اقلیت کا، غریب کی بجائے امیر کا ساتھ دینے والے اس عالمی نظام کا برقرار رہنا ناممکن ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کو مزید خوشخبریاں ملیں گی۔ خیال رہے کہ یہاں سے ترکی کو گیس کے 2 بڑے ذخائر ملے ہیں۔آذر بائیجان کی جانب سے شوشا شہر کو آزاد کرانے پر ترک صدر نے کہا کہ اس سے امیدوں میں اضافہ ہوا ہے، یہ جدو جہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کاراباخ کی پہاڑی کو آزاد نہیں کرالیا جاتا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *